چھوڑنے کے بعد سے عوامی طور پر کم متحرک رہی ہیں۔ اب انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ آسٹریلیا میں رہائش اختیار کر لی ہے۔
آرڈرن کے ترجمان نے تصدیق کی کہ خاندان گزشتہ چند برسوں سے سفر کر رہا تھا اور اس وقت آسٹریلیا میں مقیم ہے۔ وہ نیوزی لینڈ واپس جانے سے پہلے وہاں مزید وقت گزاریں گی اور کام میں مشغول ہیں۔
آسٹریلیا منتقلی کی خبریں اس وقت سامنے آئیں جب میڈیا نے بتایا کہ آرڈرن، ان کے شوہر اور سات سالہ بیٹی سڈنی کے شمالی حصوں میں گھر تلاش کر رہے ہیں۔ اس اقدام کو نیوزی لینڈ کے لیے دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جہاں شہری کمزور معیشت، مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 2017 میں جیسنڈا آرڈرن 37 سال کی عمر میں دنیا کی کم عمر ترین خاتون وزیر اعظم بنیں اور وہ دوسری خاتون رہیں جنہوں نے منتخب عہدے پر بچے کو جنم دیا۔ ان کی قیادت میں نیوزی لینڈ نے چھ سال کے دوران کئی بحرانوں کا سامنا کیا، اور انہوں نے ہمیشہ ہمدردی، انسانیت اور نیک نیتی پر زور دیا، جس کی وجہ سے انہیں عالمی سطح پر محبت ملی۔
جنوری 2023 میں اچانک عہدہ چھوڑنے کے اعلان نے عوام کو حیران کیا، اور بعد ازاں وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں قیادت، گورننس اور آن لائن انتہا پسندی کے موضوعات پر تعلیم حاصل اور لیکچر دینے میں مصروف رہیں۔ جون 2025 میں ان کی سوانح حیات بھی شائع ہوئی۔
جیسنڈا آرڈرن آسٹریلیا میں کیا کر رہی ہیں ؟
