جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف کراچی، لاہور اور پشاور میں احتجاجی دھرنے دے دیے ہیں۔ مختلف شہروں میں جماعت اسلامی کے کارکنوں اور رہنماؤں نے حکومت کی پٹرولیم پالیسی اور عوام پر بڑھتے مالی بوجھ کے خلاف احتجاج کیا۔
کراچی میں جماعت اسلامی کی ریلی منعم ظفر کی قیادت میں فوارہ چوک پہنچ گئی، جہاں کارکنوں نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کیا۔ جماعت اسلامی نے گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا اور کارکن سندھ ہائیکورٹ سے گورنر ہاؤس کی جانب روانہ ہوئے۔
احتجاج کے باعث گورنر ہاؤس کے اطراف سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے اور پولیس اہلکار تعینات رہے۔ فوارہ چوک سے پریس کلب اور آرٹس کونسل جانے والی سڑک ٹریفک کے لیے کھلی رکھی گئی تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
لاہور میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے فیصل چوک مال روڈ پر ایوان وزیراعلیٰ کے قریب دھرنا دیا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان بھی احتجاج میں شریک ہوئے۔ احتجاجی مظاہرے کی قیادت صوبائی امیر جاوید قصوری اور دیگر رہنماؤں نے کی۔
مظاہرین نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف نعرے لگائے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ بڑھتی ہوئی لیوی اور ایندھن کی قیمتوں کا براہ راست اثر عام شہریوں کی زندگی اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
پشاور میں بھی گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا گیا، جس کے باعث صدر سے خیبرپختونخوا اسمبلی چوک تک سڑک بند ہو گئی۔ احتجاجی اجتماع سے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
جماعت اسلامی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو مہنگائی کے مزید بوجھ سے بچانے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں کمی کی جائے اور قیمتوں کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے ملک گیر دھرنے
