امریکا ،ایران جنگ بندی،پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں اور ثالثی کردار نے عالمی سطح پر نمایاں توجہ حاصل کی ہے، جس کے بعد خطے سمیت بین الاقوامی حلقوں میں اس پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارت میں اس پیش رفت پر سیاسی و تجزیاتی حلقوں میں بحث کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد تجزیہ کاروں نے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اپنی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قیادت، خصوصاً شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی نے خطے میں طاقت کے توازن سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ایک بھارتی تجزیہ کار نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک دہائی قبل اڑی واقعے کے بعد نریندر مودی نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے ، آج سفارتکاری کے میدان میں پاکستان کا نام ہے اور بھارت اور نریندری مودی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔
دریں اثنا، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکا اور ایران نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی تجویز کو اصولی طور پر قبول کر لیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس فیصلے کی منظوری مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے دی گئی۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران پر حملے بند ہو جائیں تو ایران بھی جوابی کارروائی روک دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آئندہ دو ہفتوں تک محفوظ ٹرانزٹ ممکن بنایا جا سکتا ہے، جس کے لیے فوجی سطح پر بھی رابطے جاری ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت بیانات کے بعد اپنی دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے کچھ دیر قبل دو ہفتوں کے لیے عسکری کارروائی روکنے کا اعلان کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم قدم ہو سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو نہ صرف خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی منڈیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کی ثالثی کو اس تناظر میں ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے اسے بین الاقوامی سطح پر ایک ذمہ دار اور فعال کردار کے طور پر اجاگر کیا ہے۔
