Baaghi TV

جنگ کے سائے میں پاکستان کی خاموش کامیابی،تجزیہ:شہزاد قریشی

عاصم منیر کی قیادت: سفارتکاری کا نیا باب
دنیا جنگ کے قریب، پاکستان امن کے ساتھ

تجزیہ: شہزادقریشی

جنگ کے دہانے پر دنیا اور پاکستان کی خاموش سفارتکاری مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جس کے لاوے نے عالمی امن، معیشت اور سیاست کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، تیل کی عالمی ترسیل پر خطرات، اور خطے میں پھیلتی ہوئی بے یقینی نے دنیا کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے نازک اور خطرناک وقت میں پاکستان نے جس دانشمندی، تحمل اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ عالمی سطح پر اسے تسلیم بھی کیا جا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عسکری ٹیم نے ایک ایسا کردار ادا کیا ہے جو بظاہر منظرِ عام پر کم نظر آتا ہے، مگر اس کے اثرات عالمی سیاست میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ خاموش سفارتکاری، بیک چینل رابطے اور طاقتور ممالک کے درمیان اعتماد سازی یہ وہ عناصر ہیں جنہوں نے پاکستان کو ایک ذمہ دار اور قابلِ قبول ثالث کے طور پر سامنے لایا ہے۔

امریکہ، ایران، چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ بیک وقت متوازن تعلقات رکھنا کوئی آسان کام نہیں، مگر پاکستان نے یہ توازن برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف خود کو ممکنہ جنگ سے دور رکھا بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کی۔ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اس وقت پاکستان کے اسی کردار پر مرکوز ہے، جہاں اسے ایک “میڈی ایٹر اسٹیٹ” یعنی ثالثی کرنے والی ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ ایک سوچے سمجھے وژن، مربوط حکمت عملی اور مسلسل سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ چند سال پہلے تک عالمی تنہائی کا تاثر رکھنے والا پاکستان آج عالمی طاقتوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ دراصل پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت کے درمیان ہم آہنگی کا نتیجہ ہے جس نے ملک کو ایک نئی سمت دی ہے۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے اس تمام صورتحال میں “متوازن غیر جانبداری” کی پالیسی اپنائی یعنی نہ کسی ایک فریق کا حصہ بننا اور نہ ہی خاموش تماشائی بن کر رہ جانا، بلکہ فعال سفارتکاری کے ذریعے امن کی راہ تلاش کرنا۔ یہی حکمت عملی پاکستان کو دیگر ممالک سے ممتاز بناتی ہے۔ تاہم اس راستے میں چیلنجز بھی کم نہیں ہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان توازن برقرار رکھنا، اندرونی سیکیورٹی صورتحال کو مستحکم رکھنا، معاشی دباؤ کا سامنا کرنا، اور علاقائی طاقتوں کی ممکنہ مخالفت یہ تمام عوامل پاکستان کے لیے ایک مستقل امتحان ہیں۔اس کے باوجود یہ حقیقت واضح ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ٹیم نے جس تدبر، سنجیدگی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے پاکستان کی عالمی ساکھ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

آج دنیا ایک بار پھر یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ پاکستان صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی کھلاڑی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جہاں دنیا جنگ کے بادلوں میں گھری ہوئی ہے، وہاں پاکستان نے امن، توازن اور دانشمندی کی ایک نئی مثال قائم کرنے کی کوشش کی ہے اور یہی اس کی اصل کامیابی ہے

More posts