Baaghi TV

جنگ کے سائے اور بے حس دنیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

بے حس دنیا اور سسکتی انسانیت
جنگ کے سائے میں خاموش عالمی طاقتیں
انصاف کی تلاش میں بے بس انسان

دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی، طاقت اور ٹیکنالوجی کے تمام دعوے انسانی جان کے سامنے بے معنی دکھائی دیتے ہیں۔ مختلف خطوں میں جاری جنگیں نہ صرف جغرافیہ کو بدل رہی ہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کو بھی شدید زخمی کر رہی ہیں۔ معصوم شہری، بچے، عورتیں اور بزرگ اس کشمکش کا ایندھن بن چکے ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں اب بھی تذبذب، مفادات اور خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھی ہیں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کی عالمی سیاست میں اخلاقیات کی جگہ مفادات نے لے لی ہے۔ وہ ممالک جو امن کے داعی اور انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، عملی طور پر یا تو خاموش تماشائی ہیں یا پھر اس کشمکش کو اپنے اسٹریٹیجک مفادات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اس رویے نے عالمی سطح پر انصاف کے تصور کو کمزور کر دیا ہے اور عام انسان کے دل میں مایوسی کو جنم دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل جیسے ادارے، جو عالمی امن کے ضامن سمجھے جاتے تھے، آج اپنی افادیت پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ قراردادیں منظور ہوتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں، مگر زمین پر حالات جوں کے توں رہتے ہیں۔ یہ ادارہ جاتی کمزوری اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی نظام کو ازسرِ نو دیکھنے اور مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

دنیا بھر کا عام آدمی اس صورتحال سے شدید ذہنی دباؤ اور بے بسی کا شکار ہے۔ میڈیا کے ذریعے جب وہ روزانہ تباہی کے مناظر دیکھتا ہے تو اس کے دل میں یہ سوال شدت اختیار کر جاتا ہے کہ آخر اس ناانصافی کا ازالہ کون کرے گا؟ کس کے دروازے پر جا کر فریاد کی جائے؟ اور کون ہے جو اس آگ کو بجھانے کی حقیقی کوشش کرے گا؟

حقیقت یہ ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں۔ یہ صرف نفرت کو بڑھاتی ہے، معاشروں کو تقسیم کرتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتی ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی قیادت ذاتی اور قومی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی انسانی بھلائی کو ترجیح دے۔

آخرکار، جب زمینی قوتیں ناکام نظر آئیں تو انسان کی امید ایک اعلیٰ طاقت کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ یہ یقین کہ خدا دلوں میں رحم پیدا کر سکتا ہے اور حالات کو بدل سکتا ہے، آج بھی انسان کے لیے سب سے بڑی تسلی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسان کو خود بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔

اگر دنیا نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو تاریخ اسے ایک بے حس اور ناکام دور کے طور پر یاد رکھے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ جنگ کے بجائے امن کو، نفرت کے بجائے انسانیت کو، اور طاقت کے بجائے انصاف کو ترجیح دی جائے۔

More posts