Baaghi TV

جنگ کے سائے اور دنیا کا مستقبل.تجزیہ :شہزاد قریشی

دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں فیصلے صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عالمی معیشت، سیاست اور انسانی بقا کے تناظر میں بھی ہو رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکتی ہوئی آگ اب کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے شعلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے درپے ہیں۔ حالیہ بیانات، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آنے والے متضاد اشارے، اس حقیقت کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں کہ آیا دنیا جنگ کے خاتمے کی طرف بڑھ رہی ہے یا ایک بڑے تصادم کی دہلیز پر کھڑی ہے۔

توانائی، جو جدید دنیا کی شہ رگ ہے، اس تنازع کا سب سے پہلا اور بڑا نشانہ بن رہی ہے۔آبنائے ہرمزجیسے اہم بحری راستے خطرے میں ہوں تو اس کے اثرات صرف تیل بردار جہازوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پوری عالمی معیشت کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، گیس کی قلت اور توانائی کی غیر یقینی صورتحال ایک ایسے عالمی بحران کو جنم دے رہی ہیں جس کے اثرات ہر ملک، ہر شہر اور ہر فرد تک پہنچ سکتے ہیں۔

معیشت کے ایوانوں میں بے چینی واضح ہے۔ عالمی منڈیاں دباؤ کا شکار ہیں، سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال سے خوفزدہ ہیں اور ترقی پذیر ممالک ایک نئے مالی طوفان کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ مہنگائی، جو پہلے ہی کئی خطوں میں ایک بڑا مسئلہ بن چکی تھی، اب مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو کساد بازاری کا خطرہ محض ایک خدشہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ حقیقت بن سکتا ہے۔

لیکن یہ بحران صرف معاشی نہیں، بلکہ گہرا سیاسی بھی ہے۔ عالمی طاقتوں کے درمیان صف بندیاں تیزی سے بدل رہی ہیں۔ اتحادی کمزور ہو رہے ہیں، نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں اور دنیا ایک نئے جغرافیائی سیاسی نقشے کی طرف بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ اس سارے عمل میں سب سے زیادہ نقصان اس عالمی توازن کو ہو رہا ہے جو دہائیوں کی محنت سے قائم کیا گیا تھا۔

انسانی المیہ اس سب سے بڑھ کر ہے۔ جنگیں ہمیشہ سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں، ان کے اثرات گھروں، شہروں اور عام انسانوں کی زندگیوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ نقل مکانی، جانی نقصان اور عدم تحفظ کا احساس ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جس سے نظریں چرائی نہیں جا سکتیں۔

سوال یہ نہیں کہ یہ جنگ کہاں تک جائے گی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ دنیا اسے کہاں روکنا چاہتی ہے۔ اگر فوری اور سنجیدہ سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازع ایک ایسے عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔یہ وقت طاقت کے اظہار کا نہیں بلکہ بصیرت، تدبر اور اجتماعی دانش کا ہے۔ کیونکہ جنگ جتنی طویل ہوگی، اس کا اندھیرا بھی اتنا ہی گہرا ہوگا ، اور اس اندھیرے میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

More posts