مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بچوں کی ہلاکتوں میں خطرناک اضافہ سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران خطے میں تقریباً 200 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
یونیسیف کے مطابق جنگ کے سب سے زیادہ اثرات ایران میں دیکھنے میں آئے، جہاں کم از کم 181 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لبنان میں 7 بچے جاں بحق ہوئے جبکہ اسرائیل میں 3 بچوں کی موت کی اطلاع ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات کویت تک پہنچے جہاں ایک بچے کی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔یونیسیف کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی تناؤ پہلے ہی لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے۔ فضائی حملوں، میزائل حملوں اور سکیورٹی صورتحال کی خرابی کے باعث بچوں کو نہ صرف جان کا خطرہ لاحق ہے بلکہ تعلیم، صحت اور محفوظ ماحول جیسے بنیادی حقوق بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
ادارے نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگی کارروائیوں میں کمی لانے اور شہریوں، خصوصاً بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔ یونیسیف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ “بچے جنگیں شروع نہیں کرتے، لیکن وہ اس کی ناقابل قبول حد تک بھاری قیمت ادا کرتے ہیں۔”
