یہ بات بہت سی عورتوں کو پسند نہیں آئے گی، شاید کچھ عورتیں اسے پڑھ کر غصے میں بھی آ جائیں، مگر بعض اوقات سچ کی سب سے بڑی علامت یہی ہوتی ہے کہ وہ سننے میں اچھا نہیں لگتا۔
عورت کو ہمیشہ اچھا مرد نہیں چاہیے ہوتا، بعض اوقات اسے ایسا مرد چاہیے ہوتا ہے جسے وہ غلط ثابت کر سکے۔
ہم نے عورت کو صدیوں سے مظلوم دیکھا ہے، اس لیے جب بھی کوئی عورت شکایت کرتی ہے تو ہمارا ذہن فوراً اس کے حق میں فیصلہ دے دیتا ہے۔ مرد نے کیا کیا، کیوں کیا، اس سے پہلے ہی ہم یہ مان لیتے ہیں کہ قصور مرد کا ہوگا۔شاید یہی وہ مقام ہے جہاں کچھ عورتوں نے مظلومیت کو کمزوری کے بجائے طاقت سمجھنا شروع کیا۔
سوشل میڈیا کھولیں تو Couple Videos کی بھرمار ہے۔ لڑکی ہنستے ہوئے کہتی ہے:
’’میں ہر چیز کے بغیر رہ سکتی ہوں، لڑائی کے بغیر نہیں۔‘‘لوگ ہنستے ہیں، کمنٹس کرتے ہیں، کہتے ہیں یہی تو اصل محبت ہے۔مگر کبھی کسی نے سوچا کہ ایک انسان کو ہر وقت لڑائی کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟کیا محبت کا مطلب یہ ہے کہ سامنے والے کو مسلسل چھیڑا جائے، اسے اشتعال دلایا جائے، اس کے صبر کا امتحان لیا جائے، پھر جب وہ پھٹ پڑے تو اس کے غصے کو اس کے خلاف استعمال کیا جائے؟یہ کھیل بہت پرانا ہے۔مرد خاموش رہے تو کہا جاتا ہے کہ اسے پروا نہیں۔مرد سوال کرے تو کہا جاتا ہے کہ شک کرتا ہے۔رد اپنی بات منوانے کی کوشش کرے تو کہا جاتا ہے کہ کنٹرول کرتا ہے۔مرد تھک کر غصہ کرے تو کہا جاتا ہے، ’’دیکھا! میں کہتی تھی نا، مرد ایسا ہی ہوتا ہے۔‘‘اور بس، کہانی ختم۔
کسی کو یہ یاد نہیں رہتا کہ لڑائی شروع کہاں سے ہوئی تھی۔سب کو صرف وہ آخری منظر یاد رہتا ہے جب مرد غصے میں تھا اور عورت رو رہی تھی۔یہاں عورت جیت جاتی ہے۔کیونکہ معاشرہ صرف آنسو دیکھتا ہے۔مرد کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنے غصے کو کنٹرول نہیں کر پاتا۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر سامنے والا اسے بار بار غصہ دلانے کی کوشش بھی کرے تو آخری ذمہ داری اسی کی ہے کہ وہ اپنا ردعمل قابو میں رکھے۔لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر غصے کے پیچھے موجود کہانی کو دفن کر دیا جائے۔کچھ عورتیں جانتی ہیں کہ مرد کو کون سی بات تکلیف دیتی ہے۔کون سا جملہ اسے بھڑکائے گا۔کون سی خاموشی اسے بے چین کرے گی۔اور کون سا رویہ اسے آخرکار چیخنے پر مجبور کر دے گا۔پھر وہی عورت چند منٹ بعد آنکھوں میں آنسو لیے کہتی ہے،’میں نے تو کچھ کیا ہی نہیں تھا۔
یہ ’’میں نے تو کچھ کیا ہی نہیں‘‘ شاید رشتوں کا سب سے خطرناک جملہ ہے۔
کیونکہ بعض اوقات کچھ نہ کرنا بھی ایک عمل ہوتا ہے، اگر آپ جانتے ہوں کہ آپ کی خاموشی، طنز یا رویہ دوسرے انسان کو کہاں لے جائے گا۔اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے مرد رشتوں میں آہستہ آہستہ اندر سے کمزور ہوتے جاتے ہیں۔وہ پہلے سمجھاتے ہیں۔پھر بحث کرتے ہیں۔پھر غصہ کرتے ہیں۔پھر معافی مانگتے ہیں۔پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔اور آخرکار ایک دن انہیں لڑائی سے نہیں، رشتے سے ہی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔عورت سمجھتی رہتی ہے کہ وہ جیت گئی۔مرد ہار گیا۔مگر حقیقت میں دونوں ہار چکے ہوتے ہیں۔کیونکہ کسی رشتے میں اگر ایک شخص ہر بحث جیتنے کے لیے دوسرے کو توڑ دے تو آخر میں اس کے پاس جیتنے کے لیے بھی کچھ نہیں بچتا۔
یہ تحریر ہر عورت کو قصوروار قرار دینے کے لیے نہیں ہے۔
لیکن اگر مرد کے غصے کو اس کی فطرت، عورت کے آنسو کو اس کی معصومیت اور ہر جھگڑے کو مرد کی غلطی سمجھ لیا جائے تو ہم رشتوں کی حقیقت کو کبھی نہیں سمجھ سکیں گے۔عورت مظلوم ہو سکتی ہے، بالکل۔لیکن ہر عورت مظلوم نہیں ہوتی۔مرد ظالم ہو سکتا ہے، بالکل۔لیکن ہر مرد ظالم نہیں ہوتا۔اور کبھی کبھی سب سے خطرناک رشتہ وہ نہیں ہوتا جس میں ایک شخص چیختا ہے۔سب سے خطرناک رشتہ وہ ہوتا ہے جس میں ایک شخص دوسرے کو چیخنے تک لے جاتا ہے، پھر اسی چیخ کو اپنی معصومیت کا ثبوت بنا لیتا ہے۔اسی لیے شاید یہ جملہ اتنا تلخ ہے کہ لوگ اسے برداشت نہیں کر پاتے،عورت کی جیت ہمیشہ مرد کو ہرانے میں نہیں ہوتی، بعض اوقات اس کی جیت مظلوم بننے میں ہوتی ہے۔اور جس دن مرد نے یہ کھیل سمجھ لیا، شاید اسی دن اس نے غصے سے نہیں، خاموشی سے جیتنا سیکھ لیا۔
