Baaghi TV

عہد وفا کی تجدید،تحریر: مبراء عبدالقیوم

انسانی زندگی صرف سانسوں کے تسلسل کا نام نہیں ہے۔ بلکہ یہ وعدوں، تعلقات، ذمہ داریوں اور اعتماد کی ایک خوبصورت زنجیر ہے۔ انہی وعدوں میں ایک ایسا عہد بھی شامل ہے جو انسان کو اعلیٰ کردار، خلوص، محبت اور ایثار کا پیکر بناتا ہے، اور وہ ہے عہدِ وفا۔ وفا کا مطلب صرف کسی ایک انسان سے محبت یا تعلق نبھانا نہیں ہے بلکہ اپنے رب، اپنے دین، اپنے والدین، اپنے وطن، اپنے خاندان، اپنے پیشے اور اپنے اصولوں کے ساتھ سچی وابستگی کا اظہار بھی وفا ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ جب معاشرے میں وفاداری کمزور پڑنے لگتی ہے تو اعتماد کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ رشتوں میں دراڑیں آجاتی ہیں، اور اجتماعی زندگی انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات میں عہدِ وفا کی تجدید محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت بن جاتی ہے۔

آج ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں ترقی، سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو بے شمار آسانیاں فراہم کی ہیں۔ مگر افسوس کہ اسی ترقی کے ساتھ خلوص، ایثار، سچائی اور وفاداری جیسی اقدار کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ ذاتی مفاد نے اجتماعی سوچ کو محدود کر دیا ہے۔ اور وقتی فائدے کی خاطر مستقل رشتوں کو قربان کرنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ دوستی ہو یا رشتہ داری، ملازمت ہو یا کاروبار، سیاست ہو یا سماجی تعلقات، ہر جگہ وفاداری کا بحران دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں ہر شخص کو اپنے دل میں جھانک کر یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا میں اپنے وعدوں کا سچا امین ہوں؟

عہدِ وفا کی پہلی بنیاد اللہ تعالیٰ سے کیا گیا وہ وعدہ ہے کہ ہم صرف اسی کی عبادت کریں گے۔ اس کے احکام پر عمل کریں گے، اور اس کی مخلوق کے ساتھ عدل، رحم اور حسنِ سلوک کا برتاؤ کریں گے۔ جب انسان اپنے رب سے کیے گئے عہد کو نبھاتا ہے تو اس کے کردار میں دیانت، تقویٰ، صبر اور شکر جیسی خوبیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہی صفات اسے دوسروں کے لیے باعثِ اعتماد بناتی ہیں۔ اور معاشرے میں خیر و بھلائی کو فروغ دیتی ہیں۔
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک بھی عہدِ وفا کی روشن مثال ہے۔ وہ ہستیاں جنہوں نے اپنی خواہشات قربان کرکے ہماری پرورش کی، ان کی خدمت، عزت اور اطاعت ہماری ذمہ داری ہے۔ اسی طرح شریکِ حیات کے ساتھ اعتماد، اولاد کی درست تربیت، بہن بھائیوں سے محبت، دوستوں کے ساتھ اخلاص اور پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی وفا کا عملی اظہار ہے۔ رشتے صرف خون سے نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور قربانی سے مضبوط ہوتے ہیں۔ اور انہی اوصاف سے ایک خوشحال معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

وطن سے وفاداری بھی عہدِ وفا کا ایک اہم تقاضا ہے۔ اپنے ملک کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے اپنی ذمہ داری کو ایمانداری سے ادا کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔ قانون کی پاسداری، قومی املاک کی حفاظت، دیانت داری سے ٹیکس ادا کرنا، ماحول کو صاف رکھنا اور اپنے فرائض کو احسن انداز میں انجام دینا بھی وطن سے وفاداری کی علامت ہے۔ قومیں صرف وسائل سے نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے کردار، نظم و ضبط اور اخلاص سے مضبوط بنتی ہیں۔

تعلیمی اداروں میں ایک استاد کا اپنے علم سے وفادار ہونا، طلبہ کی بہترین تربیت کرنا اور ایک طالب علم کا دیانت داری سے علم حاصل کرنا بھی عہدِ وفا کا حصہ ہے۔ اسی طرح ایک ڈاکٹر کا مریض کے ساتھ مخلص ہونا، ایک وکیل کا انصاف کا ساتھ دینا، ایک صحافی کا سچ بولنا اور ایک تاجر کا ایمانداری سے کاروبار کرنا معاشرے میں اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔ جب ہر شخص اپنے پیشے کو امانت سمجھ کر انجام دیتا ہے تو بدعنوانی، دھوکا دہی اور ناانصافی خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔

سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی عہدِ وفا کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آج ایک جھوٹی خبر، ایک بے بنیاد الزام یا ایک غیر ذمہ دارانہ تبصرہ سیکڑوں لوگوں کی زندگی متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی تحریروں، گفتگو اور رویوں میں سچائی، شائستگی اور ذمہ داری کو اپنائیں۔ اختلافِ رائے ضرور ہو، مگر تہذیب اور احترام کے دائرے میں رہ کر۔ یہی حقیقی وفاداری ہے کہ ہم اپنی آزادیِ اظہار کو دوسروں کی عزت مجروح کرنے کا ذریعہ نہ بنائیں۔

عہدِ وفا کی تجدید صرف زبان سے کیے گئے دعووں کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مسلسل عملی جدوجہد ہے۔ ہر دن، ہر لمحہ انسان کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے کردار کا جائزہ لے، اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے اور اپنے وعدوں کو تازہ کرے۔ معاشرے کی تعمیر صرف حکومتوں یا اداروں کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ ہر فرد اپنے حصے کا چراغ روشن کرے تو اندھیرے خود بخود ختم ہو جائیں گے۔

اگر ہم ایک پُرامن، بااعتماد اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے عہدِ وفا کو محض الفاظ تک محدود نہیں رکھنا ہوگا۔ بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنے رب، اپنے والدین، اپنے خاندان، اپنے وطن، اپنے پیشے اور اپنی اخلاقی اقدار سے وفاداری کا نیا عزم کرنا ہوگا۔ یہی عزم ہماری شخصیت کو وقار عطا کرے گا، ہمارے معاشرے کو مضبوط بنائے گا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال قائم کرے گا۔
آخر میں، میں یہی کہوں گی کہ عہدِ وفا کی تجدید دراصل انسان کے ضمیر کی بیداری کا نام ہے۔ جب انسان اپنے وعدوں کی حفاظت کرنا سیکھ لیتا ہے، تو وہ صرف دوسروں کا اعتماد ہی حاصل نہیں کرتا ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا بھی مستحق بنتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنے دلوں میں یہ عہد تازہ کریں کہ وفا، دیانت، سچائی اور اخلاص کو اپنی زندگی کا مستقل شعار بنائیں گے۔ کیونکہ مضبوط کردار ہی مضبوط قوموں اور روشن مستقبل کی حقیقی بنیاد ہوتا ہے۔

More posts