امریکا میں جنسی جرائم کے مقدمات میں مجرم قرار دیے گئے سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متعلق نئی دستاویزات نے ایک اور متنازع پہلو سامنے لا دیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ای میلز سے معلوم ہوا ہے کہ ماضی میں اسے پینٹاگون اور ایف بی آئی سے وابستہ عمارتوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی گئی تھی۔
جاری ریکارڈ کے مطابق 2016 میں ایپسٹین کو ایک ایسے بڑے تعمیراتی کمپلیکس میں حصہ خریدنے کی تجویز دی گئی جو امریکی محکمہ دفاع سے منسلک تھا۔ تاہم دستاویزات میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ معاہدہ عملی طور پر مکمل ہوا یا سرمایہ کاری انجام تک پہنچی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کمپلیکس ریاست ورجینیا کے شہر آرلنگٹن میں واقع ہے اور پینٹاگون سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر قائم ہے۔ عمارت کا مجموعی رقبہ تقریباً 84 ہزار 710 مربع میٹر بتایا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت ایپسٹین شریک مالک بنتا اور عملاً امریکی حکومت کے لیے مالک مکان کی حیثیت اختیار کر سکتا تھا۔
دستاویزات میں مجوزہ خریداری کی مالیت تقریباً 116 ملین ڈالر درج ہے۔ سرمایہ کاری کی اس پیشکش کا مقصد سرکاری اداروں کو لیز پر دی جانے والی جائیداد میں نجی شراکت داری قائم کرنا تھا۔
گزشتہ ماہ منظر عام پر آنے والی لاکھوں ای میلز میں ایک ایف بی آئی مخبر کی یادداشت بھی شامل ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایپسٹین اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے وابستہ تھا۔ یادداشت میں یہ بھی کہا گیا کہ اس کے اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک سے قریبی روابط تھے اور اسی دائرے میں اسے مبینہ طور پر تربیت ملی۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔
پینٹاگون سے متعلق مجوزہ معاہدے کی تفصیلات تین بنیادی دستاویزات پر مشتمل تھیں، جن میں ایک ای میل، سرمایہ کاروں کے لیے تیار کردہ پریزنٹیشن اور ڈیل کا خلاصہ شامل تھا۔ یہ پیشکش کاروباری شخصیت ڈیوڈ اسٹرن نے آگے بڑھائی، جو خود کو ایپسٹین کا قریبی ساتھی قرار دیتا تھا۔
دستاویزات کے مطابق اسٹرن ماضی میں برطانوی شاہی خاندان کے رکن شہزادہ اینڈریو کے قریبی معاون بھی رہے۔ انہیں حال ہی میں سرکاری عہدے کے مبینہ غلط استعمال کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ریکارڈ سے یہ بھی سامنے آیا کہ 2015 میں اسٹرن نے ایپسٹین کو ایک الگ تجویز دی تھی جس میں رچمنڈ اور بالٹی مور میں ایف بی آئی کے دو فیلڈ دفاتر اور عدالتوں کی عمارتوں میں سرمایہ کاری کی بات کی گئی تھی۔ ان جائیدادوں کو سرمایہ کاروں کے لیے “پرکشش اثاثے” قرار دیا گیا تھا۔
منصوبے کے ابتدائی مرحلے کے لیے تقریباً 25 ملین ڈالر درکار تھے، جبکہ بعد میں مزید 80 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ لگایا گیا۔ دستاویزات کے مطابق ملکیت کا ڈھانچہ کیمن آئی لینڈز میں قائم ایک آف شور کمپنی کے ذریعے ترتیب دینے کی تجویز دی گئی تھی۔
جیفری ایپسٹین کو پینٹاگون اور ایف بی آئی سے منسلک عمارتوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش کا انکشاف
