دنیا بھر میں خوبصورتی کے معیار مختلف ہیں، لیکن افریقی ملک موریطانیہ میں حسن کا تصور دنیا کے کئی ممالک سے بالکل مختلف ہے۔ جہاں اکثر معاشروں میں پتلا جسم اور دبلی کمر کو خوبصورتی سمجھا جاتا ہے، وہیں موریطانیہ میں زیادہ وزن اور بھاری جسم کو حسن، کشش اور سماجی وقار کی علامت مانا جاتا ہے۔
موریطانیہ میں موٹی لڑکیوں کو زیادہ پرکشش سمجھا جاتا ہے جبکہ دبلی پتلی لڑکیوں کو کم خوبصورت تصور کیا جاتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت بعض خاندان اپنی بیٹیوں کو کم عمری میں زبردستی موٹا بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ انہیں شادی کے لیے موزوں سمجھا جائے۔موریطانیہ میں اس روایت کو “لیبلوہ” یا “گیواج” کہا جاتا ہے، جو خاص طور پر دیہی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ اس رسم کے تحت پانچ سے انیس سال تک کی لڑکیوں کو خصوصی گھروں یا مقامات پر رکھا جاتا ہے جہاں انہیں مسلسل زیادہ مقدار میں کھانا کھلایا جاتا ہے۔رپورٹس کے مطابق لڑکیوں کو روزانہ 10 ہزار سے 16 ہزار کیلوریز تک غذا دی جاتی ہے، جو ایک عام انسان کی ضرورت سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس خوراک میں اونٹ کا دودھ، کُسکُس، مکھن، مونگ پھلی کا تیل اور جانوروں کی چربی شامل ہوتی ہے۔
اگر کوئی لڑکی مزید کھانے سے انکار کرے تو بعض جگہوں پر اسے جسمانی یا ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق بعض لڑکیوں کو مارا پیٹا جاتا ہے یا مختلف اذیت ناک طریقوں سے کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔روایتی ماؤر معاشرے میں موٹاپا خوشحالی، دولت اور عزت کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ مقامی تصور یہ ہے کہ اگر عورت صحت مند اور بھاری جسم کی مالک ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا شوہر اسے اچھا کھانا فراہم کر سکتا ہے۔اسی سوچ کی وجہ سے کئی خاندان اپنی بیٹیوں کو کم عمری میں موٹا کر کے جلد شادی کے قابل بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض علاقوں میں یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ بھاری جسم عورت کی پختگی اور بلوغت کی علامت ہے۔
ماہرین کے مطابق اس رسم کے نتیجے میں لڑکیوں کو متعدد طبی مسائل لاحق ہو سکتے ہیں، جن میں موٹاپا،ذیابیطس،ہائی بلڈ پریشر،دل کی بیماریاں،جوڑوں کا درد ،سانس کے مسائل شامل ہیں،بعض اطلاعات کے مطابق کچھ جگہوں پر وزن بڑھانے کے لیے خطرناک کیمیکل یا جانوروں کے لیے استعمال ہونے والے مادے بھی دیے جاتے ہیں، جو مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور خواتین کے حقوق کے کارکنان اس روایت کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔ شہری علاقوں میں تعلیم کے فروغ اور نئی نسل کے بدلتے خیالات کے باعث یہ رسم آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے، تاہم دیہی علاقوں میں اب بھی اس کے اثرات موجود ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خوبصورتی کے معیار وقت اور معاشرے کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، لیکن کسی بھی رسم میں صحت، آزادی اور انسانی وقار کو مقدم رکھنا ضروری ہے
