Baaghi TV

صحافت، ٹیکنالوجی اور بدلتی دنیا،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

دنیا تیزی سے ایک نئے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت یعنی Artificial Intelligence (AI) صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ معیشت، تعلیم، صحت، کاروبار اور صحافت سمیت ہر شعبے کی بنیادی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔ وہ ممالک جو اے آئی کو جلد اپنائیں گے، مستقبل کی عالمی معیشت اور علمی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کریں گے، جبکہ اس دوڑ میں پیچھے رہ جانے والی قومیں ترقی کے سفر میں مشکلات کا شکار ہوں گی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اے آئی اب کوئی فیشن یا اضافی سہولت نہیں بلکہ قومی ضرورت بن چکا ہے۔

اسی تناظر میں ، پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور اپنا کماؤ کے اشتراک سے صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے لیے منعقد کی جانے والی خصوصی تربیتی ورکشاپ “Journalism in the Age of AI” ایک خوش آئند اور بروقت اقدام ثابت ہوئی۔ اس پروگرام نے واضح کر دیا کہ مستقبل کی صحافت اب صرف قلم اور کیمرے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اے آئی ٹیکنالوجی سے جڑی مہارتیں ہی کامیابی کی ضمانت بنیں گی۔اس ورکشاپ کے انعقاد میں سر ملک وقاص اور ان کی ٹیم کی کاوشیں خصوصی طور پر قابلِ تحسین رہیں، جنہوں نے صحافیوں اور نوجوان میڈیا پروفیشنلز کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم مہیا کیا۔ بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور میں ایسے افراد اور ادارے ہی دراصل معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علمبردار بنتے ہیں جو وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے نئی نسل کو جدید علوم اور مہارتوں سے روشناس کرائیں۔

لاہور پریس کلب کے نثار عثمانی آڈیٹوریم میں ہونے والی اس عملی ورکشاپ میں میڈیا انڈسٹری سے وابستہ افراد کو جدید اے آئی ٹولز کے استعمال کی تربیت دی گئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کے ذریعے تحقیق کے عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے، فیک نیوز کی فوری تصدیق کی جا سکتی ہے، اور ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں اپنی مضبوط شناخت یعنی Personal Brand قائم کی جا سکتی ہے۔ یہ تربیت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ موجودہ دور میں خبر کی رفتار اتنی تیز ہو چکی ہے کہ روایتی طریقے کئی مواقع پر ناکافی محسوس ہوتے ہیں۔

پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا پلیٹ فارم بھی اس حوالے سے ایک مثبت اور جدید سوچ کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ سیاسی اور سماجی پلیٹ فارمز اگر نوجوانوں کی تربیت، ڈیجیٹل تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں کردار ادا کریں تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے دوری بھی ہے۔ ایسے میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ ،اپنا کماؤ جیسے پلیٹ فارمز کا AI اور ڈیجیٹل جرنلزم جیسے موضوعات پر عملی سرگرمیوں کا انعقاد مستقبل کے لیے ایک امید افزا قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا کے پھیلاؤ کے بعد سب سے بڑا چیلنج جھوٹی خبروں اور من گھڑت پروپیگنڈے کا ہے۔ ایک غیر مصدقہ خبر چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے اور معاشرے میں بے چینی پیدا کر دیتی ہے۔ ایسے حالات میں AI پر مبنی Fact-checking ٹیکنالوجی صحافت کے لیے ایک مضبوط ہتھیار بن سکتی ہے۔ جدید AI سسٹمز تصاویر، ویڈیوز اور بیانات کی صداقت جانچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو صحافت کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

ورکشاپ میں مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے معاشرتی ذمہ داریوں پر زور دیا۔ ان کا یہ جملہ کہ “معاشرہ ایک فرد سے نہیں چلتا” دراصل اجتماعی شعور اور قومی ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں AI انسان کی زندگی کو آسان بنا رہا ہے، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال صرف ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کی بہتری کے لیے کیا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں AI انقلاب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ، چین، جاپان اور یورپی ممالک اربوں ڈالر اس شعبے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ تعلیم، زراعت، دفاع، بینکنگ، میڈیکل سائنس اور میڈیا ہر شعبہ AI سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اگر پاکستان نے اس میدان میں سنجیدہ منصوبہ بندی نہ کی تو ہم آنے والے برسوں میں مزید پیچھے رہ جائیں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اب بھی AI کے حوالے سے شعور محدود ہے اور بیشتر نوجوان صرف سوشل میڈیا تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ دنیا AI کے ذریعے نئی معیشت تعمیر کر رہی ہے۔
پاکستان میں AI کے فروغ کے لیے سب سے پہلے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں Artificial Intelligence، Data Science اور Digital Journalism جیسے مضامین کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو صرف ڈگری نہیں بلکہ عملی مہارتیں دینا ہوں گی تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں اپنا مقام بنا سکیں۔

صحافت کے میدان میں AI صحافیوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک طاقتور معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ جو صحافی AI کو سیکھ لیں گے وہ تیزی سے تحقیق، ڈیٹا اینالیسس، ویڈیو ایڈیٹنگ اور ڈیجیٹل پبلشنگ جیسے شعبوں میں کامیاب ہوں گے۔ لیکن جو لوگ نئی ٹیکنالوجی سے دور رہیں گے وہ وقت کے ساتھ پیچھے رہ جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور پریس کلب میں ہونے والی یہ ورکشاپ محض ایک تربیتی سیشن نہیں بلکہ مستقبل کی صحافت کی سمت متعین کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔

پاکستان ایک نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے اور یہی نوجوان ہماری اصل طاقت ہیں۔ اگر انہیں AI اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف راغب کیا جائے تو پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا میں ایک اہم ڈیجیٹل معیشت بن سکتا ہے۔ فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، AI ریسرچ اور ڈیجیٹل میڈیا کے شعبے پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کی آمدنی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔وقت آ چکا ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت کو صرف ایک مشین یا سوفٹ ویئر نہ سمجھیں بلکہ اسے قومی ترقی کے ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھیں۔ AI سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے سیکھنا، سمجھنا اور مثبت انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔ کیونکہ آنے والا دور اسی کا ہے جو علم، ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں سے خود کو ہم آہنگ کرے گا۔اگر پاکستان نے آج AI کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا تو یہی ٹیکنالوجی ہمارے نوجوانوں کے خواب، معیشت کی ترقی اور مستقبل کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔

More posts