گزشتہ دنوں وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی دوسری شادی نہایت شان و شوکت سے ہوئی۔ جو وزیراعلی صاحبہ کی اپنی ہی عائد کردہ ون ڈش پا لیسی کے بیان پر طمانچہ ثابت ہوئی۔ اس سے واضح ہے کہ یا تو وزیراعلی صاحبہ کی یاداشت کمزور ہے یا وہ اپنی طاقت کے نشے میں ہیں اور اس قدر پر اعتماد ہے کہ انہیں ان کی ایسی من مانیوں پر کوئی سوال نہیں پوچھ سکتا۔ مغلیہ دور کی شاہانہ طرز زندگی اپنائے ہوئے بھارتی ڈریس ڈیزائنرز کے ڈیزائن کردہ قیمتی ملبوسات، بیش بہا قیمتی زیورات، دیگر غیر ملکی برانڈز پہنے ہوئے خاتون کی یہ تیاری انڈین اداکارہ سے کم نہیں یہ کوئی اور نہیں بلکہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ ہیں جو اپنے ہی بیان میں کہتی رہیں کہ ان کی لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں۔ اس کے علاوہ ان کے باقی ٹولے نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔
ان سے پوچھا جائے کہ اخر یہ شاہ خرچیاں کہاں سے ہوئی ہیں ؟ایسے سیاست دان اندھی، لولی اور بہری عوام کو کہتے ہیں کہ پاکستان نازک حالات سے گزر رہا ہے ملکی خزانہ خالی ہے جب کہ خود عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور عوام بھوک و افلاس اور دیگر مسائل میں سسک رہی ہے بات وہی ا جاتی ہے کہ ایک مخصوص ٹولہ 25 کروڑ عوام کے حقوق کو دبائے ہوئے ہے اور عوام غفلت کا شکار ہے ان کے مکاریاں عیاریاں اور دھوکے بازیاں مکمل طور پر عیاں ہیں عوام کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔
