لاہور: سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے نواسے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات لاہور میں بھرپور انداز سے منعقد ہوئیں۔
جنید صفدر کا نکاح معروف سیاستدان شیخ روحیل اصغر کی پوتی شانزے علی روحیل سے ہوا، جبکہ شادی کی تقریبات میں سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مہندی کی تقریب شریف خاندان کی رہائش گاہ جاتی امرا لاہور میں منعقد ہوئی، جہاں دلہن شانزے علی روحیل نے معروف بھارتی فیشن ڈیزائنر سبیاسچی مکھرجی کا تیار کردہ زمردی سبز رنگ کا لہنگا زیب تن کیا۔ اس دیدہ زیب لباس میں سبیاسچی کے روایتی ورثہ سے متاثرہ ڈیزائن، متضاد رنگوں کے پینلز، چوڑا سنہری بارڈر، جبکہ سبز اور گلابی رنگ کے دوپٹے شامل تھے، جس نے تقریب کی رونقوں کو دوبالا کر دیا۔
مہندی کے بعد نکاح کی تقریب بھی جاتی امرا میں منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت دیگر اہم سیاسی شخصیات شریک ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق مرکزی شادی کی تقریب میں دلہن نے ایک اور معروف بھارتی ڈیزائنر ترون تہلیانی کا تیار کردہ سرخ ساڑھی زیب تن کی۔جہاں شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، وہیں دلہن کے بھارتی ڈیزائنرز کے انتخاب نے پاکستان میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا۔ سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے ایک نمایاں سیاسی خاندان کی شادی میں بھارتی ڈیزائنرز کے ملبوسات کو ترجیح دینے پر تنقید کی۔
کچھ صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں بے شمار باصلاحیت ڈیزائنرز موجود ہیں جو مقامی ثقافت اور روایات کی بھرپور عکاسی کر سکتے تھے، اس لیے یہ انتخاب غیر ضروری اور مقامی فیشن انڈسٹری کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ایک صارف نے لکھا،“ایچ ایس وائے، نومی انصاری، خدیجہ شاہ، زارا شاہجہان، فائزہ ثاقب، بنتو قاضی، فراز منان، ماریہ بی، اور ارم خان جیسے بڑے نام موجود تھے، پھر بھی بھارتی ڈیزائنر کا انتخاب کیا گیا، حیران کن ہے۔”
ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ پاکستانی ڈیزائنرز اس سے کہیں زیادہ خوبصورت اور ثقافتی طور پر نمائندہ لباس تیار کر سکتے تھے۔تاہم کئی صارفین نے دلہن کے حق میں آواز بلند کی اور کہا کہ شادی ایک ذاتی معاملہ ہے اور لباس کا انتخاب بھی ذاتی پسند ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیشن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور جیسے بھارتی شوبز شخصیات پاکستانی ڈیزائنرز کے ملبوسات پہنتی ہیں، ویسے ہی پاکستانی دلہن کا بھارتی ڈیزائنر کا انتخاب قابلِ اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
ایک صارف نے لکھا،“یہ 2026 ہے، دلہن کو اس کی شادی پر اپنی پسند کا لباس پہننے کا حق ہونا چاہیے۔ ہر کسی کو ہر لباس پسند آنا ضروری نہیں۔”واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب شریف خاندان کو اس نوعیت کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ دسمبر 2024 میں بھی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو سبیاسچی کا لباس پہننے پر سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
