راولپنڈی مارگلہ اسلام آباد سے کراچی جانیوالی گرین لائن ایکسپریس کے خالی ریک کو حادثہ پیش آیا ہے
گرین لائن مارگلہ اسلام آباد سے پیسنجرلیکر واپس راولپنڈی اور پھر کراچی جاتی ہے ،ریلوے حکام کے مطابق حادثہ بیکری چوک کے قریب اسوقت پیش آیا جب یہ خالی ریک مارگلہ اسٹیشن جا رہا تھا, ٹریک کی خستہ حالی اور تیز رفتاری کے باعث انجن اورتین بوگیاں ٹریک سے زمین میں دھنس گئیں ،گرین لائن حادثے کے بعد اپ لائن پر ٹریفک عارضی طور پر بند ہے،اپ ٹریک پر آنے والی ٹرینوں کو ڈاؤں لائن سے گذارا جائے گا،حادثے کی اطلاع پرڈی ایس ریلوے نور الدین داوڑ موقع پر پہنچ گئے،ریلوے امدادی کرین اور ہنگامی اسٹاف موقع پر پہنچ گیا امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں،راولپنڈی سے گرین لائن روانگی میں گاڑی روانگی میں تاخیر کا امکان ہے،راولپنڈی سے کراچی کے لیئے گرین لائن 3 بجکر 40 منٹ پر روانہ ہوتی ہے
6 ڈاون گرین لائن ایکسپریس راولپنڈی میں پٹری سے اتر گئی
ریلوے انتظامیہ کی نااہلی: دعوے آسمان پر، حقیقت زمین پر!
ایک طرف وفاقی وزیرِ ریلوے روزانہ میڈیا پر آ کر ترقی، جدیدیت اور "سب ٹھیک ہے” کی لمبی چوڑی ڈینگیں مارتے تھکتے نہیں، اور دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ مسافروں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔
بھی کچھ دیر پہلے ہی گرین لائن ایکسپریس جیسی وی آئی پی ٹرین کے پٹری سے اترنے کی افسوسناک خبر سامنے آئی ہے۔ جس ٹرین کو محکمہ ریلوے کا فخر سمجھا جاتا ہے، اگر اس کا یہ حال ہے تو باقی ٹرینوں اور عام مسافر کا اللہ ہی حافظ ہے!
• کھوکھلے دعوے: میڈیا ٹاک میں ریلوے کو منافع بخش اور محفوظ بتایا جاتا ہے، مگر عملی طور پر ٹریکس کی حالت زار انتہائی مخدوش ہے۔
• انتظامی نااہلی: آئے روز کے حادثات ثابت کر رہے ہیں کہ محکمے کی ترجیحات عوامی تحفظ نہیں بلکہ صرف فوٹو سیشنز ہیں۔
• سفر یا موت کا کھیل؟ غریب اور متوسط طبقہ جو سستی سواری کی امید میں ریلوے کا رخ کرتا ہے، اب اسٹیشن جاتے ہوئے بھی ڈرتا ہے۔
وزیرِ موصوف سے سوال: کیا صرف ٹی وی پر بیٹھ کر لمبی چوڑی باتیں کرنے سے ریلوے چلے گی؟ گرین لائن جیسے حادثات پر آپ کی "کارکردگی” کہاں چھپی ہوئی ہے؟
اب وقت آ گیا ہے کہ لفاظی کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں، ورنہ یہ ڈینگیں کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی۔
