Baaghi TV

کراچی میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں تنازعہ،ادھوری ویڈیو،تحقیقاتی صحافت پر سوالات

کراچی میں ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیش آنے والے حالیہ تنازعے کو سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے کے بعد حقیقت سامنے آ گئی ہے، جس نے نام نہاد تحقیقاتی صحافت پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ معاملہ دراصل دو کیفے کے کرایہ داروں کے درمیان ایک کھلے لان،میڈین کے غیر قانونی استعمال پر جھگڑے کا تھا۔ سوسائٹی قوانین کے تحت اس جگہ پر کسی قسم کی تعمیرات یا ذاتی استعمال کی اجازت نہیں ہے، جبکہ دونوں فریق اس اصول کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔سوسائٹی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں اطراف کو روک دیا اور واضح کیا کہ مذکورہ جگہ کسی کی ملکیت نہیں بلکہ مشترکہ اوپن ایریا ہے، جسے کسی بھی نجی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ادھوری ویڈیوز اور غیر مصدقہ دعوؤں نے اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دے دیا۔ بعض صارفین اور نام نہاد تحقیقاتی صحافیوں نے بغیر تصدیق کے صدر مملکت آصف علی زرداری، سندھ کے سینئر صوبائی وزیر،وزیر اطلاعات شرجیل میمن اور سندھ حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا، حالانکہ اس واقعے کا سرکاری پالیسی یا حکومتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔کراچی کے ہر جھگڑے کاصدر مملکت آصف علی زرداری کا قصور نہیں۔ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہر دلیل سندھ حکومت کا مسئلہ نہیں ہے۔ہر وائرل کلپ تحقیقات نہیں ہوتا۔کبھی کبھی یہ صرف غیر قانونی تجاوزات ہے.

یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا پر ادھوری معلومات اور سنسنی خیزی کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر تنازعے کو حکومتی ناکامی قرار دینا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ صحافتی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ معروف ناموں جیسے اعزاز سید اور احمد فرہاد سمیت مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی مکمل حقائق کی تصدیق کیے بغیر اس معاملے کو بڑھایا۔حالانکہ اعزاز سید خود کو تحقیقاتی صحافی کہتے ہیں اور بنا کسی تحقیق کے ویڈیو کو ایکس پر شیئر کر دیا اسی طرح احمد فرہاد اور دیگر نے بھی ویڈیو کو بنا کسی تحقیق کے سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور سندھ حکومت کو ٹیگ کیا،

موجودہ دور میں "تحقیقاتی صحافت” کے نام پر آدھی ویڈیوز دیکھ کر رائے قائم کرنا، حکومت کو ٹیگ کرنا اور سیاستدانوں پر الزام لگانا ایک خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف عوامی رائے متاثر ہوتی ہے بلکہ اصل مسائل بھی پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کیس صرف تجاوزات کی لڑائی تھی،

More posts