Baaghi TV

کراچی وائرل ویڈیو،اعزاز سید بھی ریٹنگ کے چکر میں،پروپیگنڈے،جھوٹ کی ترویج میں شامل

کچھ نام نہاد اعزاز سید جیسے”تحقیقی صحافی” درحقیقت صحافی نہیں ، نہ تحقیق، نہ تصدیق، نہ زمینی حقائق کی پڑتال، بس ایک جذباتی ویڈیو دیکھی، اس پر جھوٹ، پروپیگنڈا اور ڈرامہ چڑھایا، اور ریٹنگ و ویوز کے لالچ میں سوشل میڈیا پر کچرا پھینک دیا۔ کوئی ٹحقیق بھی فرما لیتے۔

“واقعہ ایک پرائیویٹ ھاؤسنگ سوسائیٹی کی بلڈنگ کے گراؤنڈ فلور پر موجود دو کیفے مالکان (خاتون اور مرد) کے درمیان پلازہ کے سامنے والے خالی پلاٹ پر قبضہ کرنے اور میزیں لگانے کے معاملے پر پیش آیا۔ سیکیورٹی عملے نے موقع پر پہنچ کر دونوں پر واضح کیا کہ سامنے پلاٹ کسی کی ملکیت نہیں ہے، لہٰذا اس کا تجارتی استعمال ممنوع ہے۔لہذاٰ پلاٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یہ لوگ خبر نہیں بناتے، ب خبر کو سنسنی خیزی کا لبادہ پہناتے ہیں۔ انہیں نہ سچ سے دلچسپی ہے، نہ متاثرہ فریق سے، نہ قانون سے، نہ حقائق سے۔ ان کی پوری صحافت کا خلاصہ یہ ہے “پہلے پوسٹ کرو، بعد میں سوچو، یا بالکل نہ سوچو۔” افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ اتنے سادہ لوح، نااہل اور غیر پیشہ ور لوگ خود کو تحقیقاتی صحافی کہتے ہیں، حالانکہ ان کی “تحقیق” صرف اتنی ہوتی ہے کہ وائرل ویڈیو دیکھی، جذباتی کیپشن لگایا، دو لوگوں کو ٹیگ کیا اور جھوٹا بیانیہ بیچنا شروع کر دیا۔

یہ صحافت نہیں، یہ سستی شہرت کا گھناؤنا کاروبار ہے۔
نہ ریکارڈ چیک کیا، نہ متعلقہ ادارے سے مؤقف لیا، نہ زمین کی اصل قانونی حیثیت دیکھی ، بس ویوز کے نشے میں جو سامنے آیا، وہی پوسٹ کر دیا۔ ایسے لوگ دراصل سچ کے نہیں، سنسنی پھیلانے کے دلاّل ہیں۔ عقل وفہم سے عاری۔ ان کا مقصد حقائق سامنے لانا نہیں بلکہ عوام کے جذبات بھڑکا کر اپنی دکان چمکانا ہے۔ یہ رویہ صرف غیر ذمہ داری نہیں بلکہ صحافتی بددیانتی کی بدترین شکل ہے۔ جب صحافی تحقیق چھوڑ کر افواہ فروشی پر اتر آئے تو وہ معاشرے کی رہنمائی نہیں کرتا بلکہ گمراہی، اشتعال اور بے اعتمادی پھیلاتا ہے۔جو شخص تحقیق کے بغیر الزام اچھالے، وہ صحافی نہیں، فیکٹری میڈ پروپیگنڈسٹ ہے۔

آج کل اعزاز سید جیسے صحافیوں کو سچ سے زیادہ اپنے ویوز عزیز ہیں، حقائق سے زیادہ اپنی ریچ پیاری ہے، اور پیشہ ورانہ دیانت سے زیادہ اپنی ریٹنگ کی فکر ہے۔ اسی لیے یہ لوگ ہر جذباتی ویڈیو کو “انویسٹی گیشن” اور ہر جھوٹے الزام کو “بریکنگ” بنا دیتے ہیں۔ اعزاز سید جیسے صحافی نہیں، ویوز کے بھوکے افواہ فروش ہیں۔ تحقیق ان کے بس کی بات نہیں، ڈرامہ بیچنا ان کا اصل ہنر ہے۔ ایک جھوٹ سے بھر پور جذباتی وائرل کلپ ملا اور یہ “تحقیقی صحافت” کے نام پر جھوٹ کی دکان کھول کر بیٹھ گئے۔ سچ کی تلاش نہیں، ریٹنگ کی تلاش ان کا اصل ایجنڈا ہے۔ ایسے نام نہاد صحافی خبر نہیں دیتے، فساد کو فیڈ کرتے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عمار سولنگی کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے اس پوسٹ کی طرف سےاعزاز سید
ہماری صحافت کی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ ایک تحقیقاتی صحافی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن وہ صرف اس لیے حرکت میں آیا کیونکہ اس نے سوشل میڈیا پر ایک سنسنی خیز ویڈیو دیکھی ہے۔ اور نام نہاد صحافی نے صدر پاکستان کے علاوہ کسی اور کو ٹیگ نہیں کیا اور اس میں کسی اور کو نہیں بلکہ صدر پاکستان کی بیٹی کو شامل کیا ہے۔اور یہ سب حقائق کو جانچے بغیر۔یہ کچھ حقائق ہیں جو مجھے سندھ کے صحافی ہونے کے ناطے چند منٹوں میں معلوم ہو گئے۔

کیس کا تعلق زمین کے قبضہ یا اس کے پلاٹ یا اس سے متعلق کسی دھوکہ دہی سے نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ کراچی کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں کمرشل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر ایک دکان کی مالک ہے۔ وہ اور اس کے پڑوسی دکان کے مالک، دونوں نئے قائم کردہ / تجدید شدہ کیفے ٹیریا کے مالک ہیں۔ دونوں باہر بیٹھنے کے لیے سامنے کا لان/سبز جگہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان ایک ہی سبز جگہ کے استعمال پر جھگڑا ہوا اور اسی وجہ سے خاتون کو پڑوسی کیفے کے مالک کے خلاف وضاحتیں/الزامات لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ پہلے ہی مداخلت کر چکی ہے اور دونوں فریقوں کو بتا چکی ہے کہ کسی کو بھی اس سبز جگہ کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔

More posts