Baaghi TV

امریکہ ایران کشیدگی میں کمی لانے کیلئے پاکستان کا اہم کردار

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کیلئے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان کے ساتھ ترکیہ اور مصر نے بھی کشیدگی میں کمی لانے کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے۔رائٹرز کے دعوے کے مطابق تینوں ممالک نے عباس عراقچی اور اسٹیو وٹکوف کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کیے ہیں۔بات چیت کا مقصد موجودہ کشیدگی میں کمی لانا تھا جس کے نتائج بھی سامنے آ چکے ہیں 5 دن کیلئے امریکی حملے روک دیئے گئے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جبکہ خطے کے اہم ممالک پس پردہ رابطوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق، ترکی، مصر اور پاکستان گزشتہ چند دنوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ممالک ایسے وقت میں رابطے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں جب حالیہ دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی۔یہ پیش رفت ایک وسیع تر علاقائی سفارتی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد کشیدگی میں کمی یا ممکنہ جنگ بندی کے امکانات تلاش کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ دنوں میں ترکی، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں انہوں نے خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔ادھر دیگر سفارتی چینلز بھی متحرک ہیں۔ قطر، مصر اور برطانیہ نے امریکی تجاویز ایرانی حکام تک پہنچائی ہیں۔ ان تجاویز میں ممکنہ امن معاہدے یا جنگ بندی کے لیے سخت شرائط شامل ہیں، جن میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو پانچ سال کے لیے معطل کرنا، یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روکنا، اور نطنز جوہری تنصیب، اصفہان جوہری تنصیب اور فردو جوہری تنصیب جیسے مراکز کو بند کرنا شامل ہے۔
مزید برآں، تجاویز میں جوہری تنصیبات اور سینٹری فیوجز کی سخت بین الاقوامی نگرانی، خطے میں میزائل کی حد 1000 کلومیٹر تک محدود کرنا، اور حزب اللہ، حوثی تحریک اور حماس جیسے گروہوں کی مالی و عسکری مدد ختم کرنا بھی شامل ہے۔

وزیر خارجہ ترکی نے جنگ کے خاتمے کے لیے مختلف ممالک سے وسیع مشاورت کی ہے، جس میں ایرانی اور مصری حکام کے ساتھ ساتھ امریکی اور یورپی عہدیداران سے بھی بات چیت شامل ہے۔اسی دوران عمان، مصر، پاکستان اور ترکی کے سینئر سفارتکار خاموشی سے تہران کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔

More posts