26جنوری بھارت میں بطور یوم جمہوریہ لیکن مقبوضہ کشمیر میں یہی دن یوم سیاہ کے طور پرمنایا جاتا ہے
کشمیریوں کے نزدیک یہ تاریخ اس غیرقانونی آئینی نفاذ کی یاد دہانی ہے جو 26 جنوری 1950 کو ان پر مسلط کیا گیا،یواین کے مطابق کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا تھا لیکن بھارتی آئین کا جبری اطلاق اسکی نفی تھا،اسی تناظر میں ہر سال 26 جنوری کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پُرامن احتجاج دیکھنے میں آتا ہے،یہ خاموشی کسی خوف یا کمزوری کا اظہار نہیں بلکہ طاقت کے زور پر نافذ حکمرانی کو جمہوریت ماننے سے انکار ہے،مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ پرگرفتاریاں اور سخت سکیورٹی سے واضح ہے کہ ریاست عوامی تائید سے محروم ہے،یہ صورتحال 5 اگست 2019 کو اس وقت مزید واضح ہو گئی جب بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35اے کو ختم کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سلب کر لی،اس فیصلے کے بعد لاک ڈاؤن، مواصلاتی بلیک آؤٹ، نظر بندیاں اور گرفتاریاں ثبوت بنیں کہ یہ اقدامات عوامی رضامندی کے بغیر نافذ کئے جا رہے ہیں،اسکےبرعکس پاکستان نے مسلسل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر پر حقِ خودارادیت کی حمایت کی
پاکستانی آئین بھی توثیق کرتا ہے کہ کشمیریوں کو یواین چارٹرکے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے،یہ دن دنیا کیلئے ایک سنجیدہ یاد دہانی ہے کہ کشمیریوں کیلئے حق خود ارادیت کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ہو سکتا
