Baaghi TV

ختمِ نبوت ﷺ اور ہماری ذمہ داریاں ،تحریر: عائشہ گل

عقیدہ ختمِ نبوت ہمارے ایمان کی بنیاد ہے، قرآنِ مجید میں سورۃ الاحزاب آیت 40 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ یعنی محمد ﷺ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے بھی واضح فرمایا: "میرے بعد کوئی نبی نہیں”، اور فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔ آپ ﷺ خاتم النبیین، رحمۃ للعالمین، صادق و امین، سید المرسلین اور شفیعِ محشر ہیں، آپ ﷺ کی ذات پر نبوت کی عمارت مکمل ہوگئی اور اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔

7 ستمبر کا دن ہمیں اسی عظیم عقیدے کے تحفظ کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جب آئینِ پاکستان میں اس عقیدے کو قانونی تحفظ ملا۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ بتانا ہے کہ ہم آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی آخری امت ہیں اور ہمارے نبی جیسا نہ کوئی آیا نہ آئے گا، یہی وجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی قربِ قیامت میں جب تشریف لائیں گے تو نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ حضور ﷺ کے امتی کی حیثیت سے آئیں گے کیونکہ نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عقیدہ ختمِ نبوت کے محافظ بنیں، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو اپنائیں اور اپنی اولاد کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ پیدا کریں۔

اب سوال یہ ہے کہ اس عقیدے کے حوالے سے ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟ صرف ایمان لانا کافی نہیں بلکہ اس کا تحفظ اور اس کی تبلیغ بھی ہم پر فرض ہے۔ سب سے پہلی ذمہ داری علم حاصل کرنا اور پھیلانا ہے، ہم خود قرآن و حدیث سے "لا نبی بعدی” کو سمجھیں اور اپنے گھروں اور بچوں میں عام کریں۔ دوسری ذمہ داری نئی نسل کی تربیت ہے، انہیں سیرتِ نبوی ﷺ پڑھائیں تاکہ وہ کسی جھوٹے مدعیِ نبوت کے فریب میں نہ آئیں۔ تیسری ذمہ داری عمل سے تبلیغ ہے، جب ہمارا کردار صادق و امین ہوگا تو یہی ختمِ نبوت کی سب سے بڑی خدمت ہوگی۔ اور چوتھی ذمہ داری اتحاد و بیداری ہے، ہر اس فتنے کے خلاف متحد رہنا جو اس عقیدے کو نقصان پہنچائے اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والے شکوک کا علم کے ساتھ جواب دینا۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ عقیدہ ختمِ نبوت صرف ایک ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک اہم فرض ہے جس کو ہر امتی کو بخوبی نبھانا ہے۔ ہمیں اپنے امتی ہونے کا فرض پورا کرنا ہے، یہی ہمارے ایمان کا تقاضا اور ہماری نجات کا ذریعہ ہے۔

More posts