رپورٹ،طارق نوید سندھو،بیوروچیف باغی ٹی وی قصور
ضلع قصور کے علاقے کھڈیاں خاص کے نواحی گاؤں قبر کوٹ میں مبینہ طور پر بلیک میلنگ، ہنی ٹریپ اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا ایک بڑا سکینڈل سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق قبر کوٹ کے علاقے میں چار سے پانچ نوجوان گزشتہ کئی برسوں سے لڑکیوں کو مختلف حربوں کے ذریعے اپنے جال میں پھنساتے رہے اور بعد ازاں ان کی آڈیوز، تصاویر اور ویڈیوز بنا کر مبینہ طور پر بلیک میل کرتے رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکیوں کی تعداد درجنوں میں ہو سکتی ہے جبکہ ہزاروں تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے دباؤ ڈالنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ افراد میں شامل ایک لڑکی نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملزمان پہلے سوشل رابطوں یا دوستی کے ذریعے اعتماد حاصل کرتے، پھر گفتگو کی ریکارڈنگ کرتے تھے۔ بعد ازاں اسی مواد کو استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر لڑکیوں کو ہراساں اور بلیک میل کیا جاتا تھا۔
ذرائع کے مطابق ملزمان میں محمد صدیق، محمد افتخار اور دیگر افراد شامل ہیں۔ الزام ہے کہ ایک ملزم محمد صدیق نے اپنے گھر میں کیمرے نصب کر رکھے تھے جبکہ موبائل فون کے ذریعے اسکرین ریکارڈنگ کرکے بھی مواد جمع کیا جاتا رہا۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کئی خاندان عزت اور سماجی دباؤ کے باعث خاموش رہے، جس کے نتیجے میں یہ معاملہ طویل عرصے تک منظر عام پر نہ آ سکا۔
