Baaghi TV

کتاب دل کی گیتا ،ترجمہ خواجہ دل محمد،تحریر:زین سلیم

مہابھارت کی جنگ کو گزرے ہوئے تقریباً سات ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ بیت چکا ہے۔ کُروکشیتر کے میدان میں لڑی جانے والی یہ جنگ بظاہر دو بڑے لشکروں کے درمیان تھی مگر اس کے باطن میں ایک اور جنگ بھی جاری تھی۔ایک انسان کی اپنے آپ سے جنگ یہی انسان پانڈوؤں کا جواں مرد ارجن تھا، جو میدان جنگ میں کھڑا اپنے سامنے اپنے ہی عزیز و اقارب کو دیکھ رہا تھا۔ کہیں اس کے گرو کھڑے تھے، کہیں چچا، کہیں بھائی، کہیں بھتیجے اور کہیں قریبی دوست۔ جن لوگوں کے خلاف اسے ہتھیار اٹھانا تھا وہی اس کی محبتوں اور رشتوں کا حصہ تھے۔ (یہاں پر اہل علم کے لیے ایک اشارہ ہے جو بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ بات کیا ہو رہی ہے۔) چنانچہ ارجن ایک ایسے دوراہے پر پہنچ گیا جہاں اس کی عقل اور جذبات باہم دست و گریباں تھے۔ اسے فیصلہ کرنا تھا کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔

گیتا مہابھارت ہی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ارجن رتھ پر سوار تھا اور شری کرشن اس کے سارتھی تھے۔ ارجن کی درخواست پر شری کرشن نے رتھ کو دونوں فوجوں کے درمیان لا کھڑا کیا۔ کوروؤں کی فوج پر نگاہ پڑتے ہی ارجن کے دل پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ اس کے ہاتھ سے کمان چھوٹ گئی اور وہ شکستہ خاطر ہو کر رتھ میں بیٹھ گیا۔ اس وقت اسے صرف بیرونی جنگ کا نہیں بلکہ اپنے اندر کی جنگ کا بھی سامنا تھا۔ یہ دراصل دھرم اور اَدھرم فرض اور جذبات حق اور باطل عمل اور تذبذب کی جنگ تھی۔

شری کرشن نے اس موقع پر ارجن کی ٹوٹی ہوئی ہمت کو پھر استوار کیا اور اس کے من کے اندھیرے کو دور کیا۔ انہوں نے اسے زندگی فرض، نشکام کرم اور کرم یوگ کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے سمجھایا کہ انسان کو محض جذبات کی وجہ سے اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ شری کرشن کے اس اپدیش سے ارجن کو روحانی قوت حاصل ہوئی اور وہ دوبارہ ادائے فرض کے لیے کھڑا ہو گیا۔ یوں گیتا کا موضوع محض ایک قدیم جنگ نہیں رہتا بلکہ ہر دور کے انسان کے اندر جاری کشمکش کی علامت بن جاتا ہے۔

مہابھارت کی روایت میں دھرت راشٹر دریودھن کے والد اور کورو خاندان کے بزرگ پیدائشی طور پر نابینا تھے۔ جنگ کے آغاز میں مہارشی ویاس ان کے پاس آئے اور انہیں جنگ کا نظارہ کرنے کے لیے ایک غیر معمولی بصیرت عطا کرنے کی پیش کش کی لیکن دھرت راشٹر نے اپنے خاندان کی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھنے سے انکار کر دیا۔ اس پر مہارشی ویاس نے سنجے کو ایسی روحانی بصیرت عطا کی کہ وہ محل میں بیٹھے بیٹھے میدان جنگ کے تمام حالات دیکھ سکتا تھا۔ سنجے جنگ کے واقعات دھرت راشٹر کو سناتا رہا۔ اسی سلسلے میں اس نے دونوں فوجوں کی صف بندی اور جنگ کی صورت حال بیان کرنے کے بعد ارجن اور شری کرشن کا وہ مکالمہ سنایا جو آگے چل کر بھگوت گیتا کے نام سے معروف ہوا۔

بھگوت گیتا میں اٹھارہ ادھیائے اور تقریبا سات سو شلوک ہیں۔ شری کرشن نے ان شلوکوں میں آتما پرماتما، بھگتی، کرم، گیان، پرکرتی اور انسانی زندگی کے بنیادی مسائل پر وسیع گفتگو کی ہے۔ گیتا کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس میں زندگی کے انتہائی پیچیدہ روحانی اور فلسفیانہ سوالات کو ایک مکالمے کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔
اسی فلسفیانہ متن کو خواجہ دل محمد نے اردو شاعری کے قالب میں ڈھالا اور اسے "دل کی گیتا” کا نام دیا۔ خواجہ دل محمد ایک قادرالکلام شاعر تھے اور وسیع علمی و شعری پس منظر رکھتے تھے۔ انہوں نے گیتا کا محض لفظی ترجمہ نہیں کیا بلکہ اسے آسان رواں اور منظوم اردو میں ایک ایسی داستان کی صورت پیش کیا ہے جس میں فلسفہ بھی ہے شاعری بھی اور تمام شلوک بھی موجود ہیں جو ایک روحانی فکر رکھتے ہیں ۔ گیتا کے تمام اٹھارہ ادھیاؤں اور شلوکوں کو منظوم صورت میں پیش کرنا بجائے خود ایک بڑا ادبی کارنامہ ہے۔دل کی گیتا کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ خواجہ دل محمد نے گیتا کے مشکل فلسفیانہ تصورات کو آسان شعری زبان میں منتقل کیا ہے۔ ہندو متھالوجی، ہندو مذہبی تصورات اور ارجن و شری کرشن کے مکالمے کے فکری نکات کو انہوں نے اشلوکوں کی صورت میں اردو کے قاری کے سامنے رکھا ہے۔ گیتا میں سب سے بنیادی سوال خدا کی ہستی کا ہے کیا خدا ہے۔۔ گیتا اس کا جواب دیتی ہے کہ خدا ہے بلکہ خدا ہی ہے۔ دوسرے الفاظ میں گیتا میں وحدت وجود کا تصور نمایاں نظر آتا ہے۔ خدا ہر جگہ موجود ہے۔ سورج کے جلال میں اس کی تابانی ہے چاند کے شباب میں اس کی دلفریبی پھولوں میں اس کی نفاست ہے، سمندر میں اس کی بے پایانی، آسمان میں اس کی بلندی اور زمین میں اس کی کارفرمائی ہے۔ گویا جدھر دیکھو ادھر ہی خدا کا جلوہ نظر آتا ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اسی سے وابستہ ہے اگر وہ نہ ہو تو یہ شیرازہ منتشر ہو جائے گا۔

یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدا ہر چیز میں موجود ہے تو کیا وہ قابل تقسیم ہے۔ گیتا کا جواب ہے نہیں، ہرگز نہیں۔ اس کی تقسیم محال ہے۔ وہ اپنی ذات میں واحد اور کامل ہے لیکن ہر شے میں اس کی جلوہ گری ضرور ہے۔ یہی فلسفیانہ نکتہ خواجہ دل محمد نے شعر میں بھی بیان کیا ہے کہ اس کی تقسیم محال ہے مگر اس کا ہر شے میں حصہ ضرور ہے۔ یوں خدا ہر شے میں موجود ہوتے ہوئے بھی کسی ایک شے میں محدود نہیں ہوتا۔

گیتا کے فلسفے میں آتما یعنی روح کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ انسان صرف اپنے جسم کا نام نہیں۔ خواجہ دل محمد گیتا میں انسان کی ساخت کو پیکرِ کثیف، پیکرِ لطیف اور آتما کے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔ پیکرِ کثیف یعنی تن، انسان کی ادنی فطرت کا مظہر ہے جبکہ پیکر لطیف سے مراد حواس من عقل وغیرہ ہیں جو اس کی اعلی فطرت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سب سے بلند آتما یعنی روح ہے۔ جو انسان کی اصل حقیقت ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسان محض جسم نہیں اس کی اصل شناخت اس کی روح ہے۔
آتما اور پرماتما کے تعلق کو خواجہ دل محمد نے نہایت خوب صورت انداز میں شعری پیکر عطا کیا ہے
سن ارجن میں ہوں آتما بالیقیں
جو جانداروں کے دل میں مکیں
میں ہوں مثل جاں اہل جاں میں نہاں
میں اول میں میں آخر میں ہوں درمیاں
ان چار مصرعوں میں پرماتما کی ہمہ گیری اور آتما سے اس کے تعلق کا تصور بڑی خوب صورتی سے سامنے آتا ہے۔ خدا ہر جاندار کے دل میں مقیم ہے روح کی مانند اہلِ جاں میں پوشیدہ ہے اور وجود کی ابتدا انتہا اور درمیان ہر مقام پر اس کی جلوہ گری ہے۔
گیتا میں پرکرتی یعنی مادی دنیا کے بارے میں بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کے تین بنیادی گن یا عناصر ہیں۔ ستوگن، رجوگن اور تموگن۔
ستوگن روشنی پاکیزگی علم اور توازن کی علامت ہے۔
رجوگن صفات جزباتی اور دنیاوی کہا گیا ھے۔
تموگن اتما جب تن کے پنجرے میں آتی ہے اور مایا کے پردے میں چھپ جاتی ہے تو یہی آتما روح انسانی کہلاتی ہے۔

گیتا کے فلسفے میں گیان اور گیانی کا تصور بھی نہایت اہم ہے۔ گیان محض معلومات یا ظاہری علم کا نام نہیں بلکہ ایسی باطنی معرفت ہے جو انسان کو اپنی حقیقت اور پروردگار کی حقیقت سے آشنا کرتی ہے۔ جس شخص کو گیان حاصل ہو جائے اس کی دنیا نرالی ہو جاتی ہے۔ وہ دن رات خدا کے خیال میں مست رہتا ہے۔ اس کے دل میں سکون ہوتا ہے اور سکھ دکھ کا اس پر پہلے جیسا اثر نہیں رہتا۔ وہ ظاہری حالات سے اوپر اٹھ کر باطن کے اطمینان کی طرف سفر کرتا ہے۔
اسی طرح گیتا میں بھگتی کی عظمت بھی بیان کی گئی ہے۔ اس کے اصول طریقے سچے بھگت کے اوصاف اور اس کے طرز زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ حقیقی بھگت محض ظاہری عبادت کرنے والا نہیں بلکہ وہ شخص ہے جو اپنے دل کو خدا کی محبت سے منور کرتا ہے اور اپنی زندگی کو عاجزی بے غرضی ضبط نفس اور نیک عمل کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ گیتا کا ایک خوب صورت تصور یہ ہے کہ خدا اپنے سچے بھگتوں سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔ یہاں بندے اور خدا کا تعلق محض خوف اور حکم کی پابندی تک محدود نہیں رہتا بلکہ محبت اور عقیدت کا روحانی رشتہ بن جاتا ہے۔

ارجن اور شری کرشن کا مکالمہ دل کی گیتا میں اپنی شعری صورت میں خاص کشش پیدا کرتا ہے۔ ارجن کا ایک سوال ملاحظہ فرمائیں :
کہاں سن کے ارجن نے، سنیے حضور
جہاں میں ہوا آپ کا اب ظہور
ووسوان پہلے ہی موجود تھا
تو یوگ آپ سے اس نے کیوں کر لیا
اس کے جواب میں شری کرشن فرماتے ہیں:
سن ارجن ہوئے ہیں یہاں بار بار
تمہارے ہمارے جنم بے شمار
مجھے حال ان سب کا معلوم ہے
ترا حافظہ ان سے محروم ہے۔
خواجہ دل محمد نے ان اشعار کے ذریعے گیتا کے ایک گہرے فلسفیانہ تصور کو نہایت آسان زبان میں بیان کیا ہے۔ مکالمے کی روانی بھی برقرار ہے اور فلسفے کی معنویت بھی۔

دل کی گیتا کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ خواجہ دل محمد نے گیتا کے پیغام کو صرف قدیم زمانے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے آج کے انسان کے باطن سے بھی جوڑا ہے۔ ان کے نزدیک آج بھی مہابھارت کی جنگ ہو رہی ہے۔انسان کا تن کُروکشیتر کا میدان ہے اور من دھرم کَشیتر ہے۔
کھیت میں جو بیج بویا جائے گا ویسا ہی پھل ملے گا۔ آم کی گٹھلی سے آم اور نیم کے بیج سے نیم کا پودا نکلے گا۔ اسی طرح محبت کے بیج سے محبت اور نفرت کے بیج سے نفرت پیدا ہوگی۔ انسان کے اندر بھی حق و باطل نیکی و بدی کی فوجیں ہر وقت برسر پیکار ہیں۔
نیکی کی فوج کا سردار ضمیر ہے جو یُدھشٹر کی طرح جنگ میں ثابت قدم رہتا ہے جبکہ بدی کی فوج کا سردار نفس امارہ ہے جو دھرت راشٹر کی طرح دوسرے کے راج کو ہضم کرنا چاہتا ہے۔ اس تشبیہ کے ذریعے مہابھارت کا پورا منظرنامہ انسان کے اندر منتقل ہو جاتا ہے۔ انسان خود میدان جنگ بن جاتا ہے اور اس کے اندر نیکی اور بدی کی قوتیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی نظر آتی ہیں۔
ارجن کی طرح انسان کو بھی چاہیے کہ اپنی رتھ یعنی قوت عمل کی باگ ڈور خدا کے ہاتھ میں دے جذبات کو فرائض پر غالب نہ آنے دے اور حق کے لیے پوری کوشش کرے۔ اپنے تمام کام نشکام کرم سمجھ کر خدا کے لیے اور خدا ہی کا کام سمجھ کر انجام دے۔ یہی وہ روحانی قوت ہے جو انسان کو اپنی اندرونی جنگ میں کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔
گیتا کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ مہاتما گاندھی نے اسے ہندو مذہبی اور روحانی روایت میں غیر معمولی اہمیت دی۔ ان سے منسوب قول ہے:
جب تک گیتا موجود ہے ہندو دھرم زندہ ہے۔
اس پس منظر میں خواجہ دل محمد کی دل کی گیتا کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے ایک قدیم ہندو دھرم کی مذہبی فلسفیانہ اور روحانی متن کو اردو شاعری میں منتقل کرکے دو مختلف تہذیبی اور لسانی دنیاؤں کے درمیان ایک ادبی پل قائم کیا ہے۔ گیتا کے اٹھارہ ادھیائے اور اس کے شلوک جب اردو کے شعری قالب میں ڈھلتے ہیں تو ایک ایسا متن سامنے آتا ہے جو فلسفے کے طالب علم ادب کے قاری اور روحانی فکر رکھنے والے شخص تینوں کے لیے کشش رکھتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دل کی گیتا محض ایک منظوم ترجمہ نہیں بلکہ گیتا کے فلسفے کو اردو کے قاری تک پہنچانے کی ایک اہم ادبی کاوش ہے۔ خواجہ دل محمد نے آتما، پرماتما گیان، بھگتی، کرم، پرکرتی اور انسانی باطن کی کشمکش جیسے مشکل موضوعات کو شعر کے ذریعے آسان بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہی اس کتاب کا اصل حسن ہے کہ کُروکشیتر کا میدان ہزاروں برس پیچھے نہیں رہتا بلکہ انسان کے اپنے دل میں آکربس جاتا ہے۔ ارجن کا سوال آج بھی ہمارا سوال ہےشری کرشن کا اپدیش آج بھی انسان کو اپنے فرض اپنے باطن اور اپنی روح کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اردو منظوم گیتا کی جب بھی بات ہوگی خواجہ دل محمد کی "دل کی گیتا” کا ذکر ناگزیر رہے گا۔

More posts