ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی فضائی سفر پر بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، ڈچ ایئر لائن کے ایل ایم نے اسرائیل کیلئے اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایئر لائن کا کہنا ہے کہ یکم مارچ سے اسرائیل جانے والی تمام پروازیں غیر معینہ مدت تک بند رہیں گی۔ کمپنی نے فیصلے کی وجہ خطے میں سیکیورٹی خدشات اور غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا ہے۔
ادھر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، امریکا کی جانب سے جدید F-22 Raptor طیاروں کے مزید دستے خطے میں تعینات کیے گئے ہیں، جسے مبصرین طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے گرد بڑی فوجی موجودگی قائم کر رکھی ہے اور دباؤ ڈال کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے، تاہم تہران اس دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران نے پسپائی اختیار نہیں کی، اور اگر دوبارہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو اس کا بھی مقابلہ کیا جائے گا۔
علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور سخت بیانات کے باعث مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، جس کے اثرات سفارتی اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
ایران امریکا کشیدگی: کے ایل ایم نے اسرائیل کیلئے پروازیں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں
