کوہاٹ: کوہاٹ کے علاقے کے ڈی اے ڈبل روڈ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک لیڈی ڈاکٹر جاں بحق ہو گئیں، واقعے کے بعد شہر بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ طبی برادری نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقتولہ لیڈی ڈاکٹر ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد رکشہ کے ذریعے گھر واپس جا رہی تھیں کہ کے ڈی اے ڈبل روڈ پر پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں اور موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔ ملزمان واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور جائے وقوعہ کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کا سراغ لگایا جا سکے۔
دوسری جانب واقعے کے خلاف ڈاکٹرز برادری سراپا احتجاج بن گئی۔ سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج ریکارڈ کرایا جبکہ بعض مقامات پر او پی ڈیز کی جزوی بندش بھی دیکھنے میں آئی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ طبی عملہ پہلے ہی سیکیورٹی خدشات کا شکار ہے اور اس طرح کے واقعات ان کے لیے شدید تشویش کا باعث ہیں۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیڈی ڈاکٹر کے قتل میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری تک احتجاج جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سیکیورٹی کی فراہمی میں ناکام رہے تو احتجاج کا دائرہ کار صوبہ بھر تک بڑھایا جا سکتا ہے،ڈاکٹرز رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اسپتالوں اور طبی عملے کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے اور اس افسوسناک واقعے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
