Baaghi TV

خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،کرم میں‌11 ہلاک

polic

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوااور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

ذرائع کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے یکم جنوری کو پنجگور میں زاہد محمد حسین کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے، جسے تنظیم نے پاکستانی فورسز کا مبینہ معاون قرار دیا ہے۔ بی ایل اے کے بیان کے مطابق حملہ زاہد حسین کے سکیورٹی فورسز کے ساتھ مبینہ تعلق کی بنیاد پر کیا گیا۔ حکام نے تاحال اس دعوے کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی قتل کے حالات سے متعلق تفصیلات فراہم کی ہیں۔ علاقے میں سکیورٹی حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں، مقامی انٹیلی جنس کا جائزہ لے رہے ہیں اور کالعدم تنظیم سے جڑی کسی بھی ممکنہ سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق کوہاٹ میں موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے موبائل فون چھیننے کی کوشش کے دوران مزاحمت پر ایک نوجوان کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مقتول صنعتی اسٹیٹ کوہاٹ سے کام ختم کر کے گھر واپس جا رہا تھا کہ حملہ آوروں نے اسے روک لیا۔ جب اس نے موبائل فون دینے سے انکار کیا تو حملہ آوروں نے فائرنگ کر دی، جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ پولیس موقع پر پہنچ گئی، مقدمہ درج کر لیا گیا اور ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ قریبی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور گواہوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے تیراہ ویلی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا، جس میں تین شدت پسند مارے گئے۔ ذرائع کے مطابق علاقے میں ٹی ٹی پی عناصر کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے پر فوری طور پر گھیراؤ اور تلاشی آپریشن شروع کیا گیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے فرار یا کمک کو روکنے کے لیے گھیراؤ سخت کر دیا۔ شدت پسندوں نے مختصر مزاحمت کی تاہم فورسز کو نقصان پہنچائے بغیر انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ وادی کو مکمل طور پر محفوظ بنانے اور باقی ماندہ خطرات کے خاتمے کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ آپریشن کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے اپنے ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کی، جو خطے میں شدت پسندوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جاری کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف جاری کوششوں کا حصہ ہے، خاص طور پر قبائلی اور سرحدی علاقوں میں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ڈیرہ بگٹی کے علاقے دوہی وڈ میں سکیورٹی فورسز نے کامیاب انسداد دہشت گردی آپریشن کرتے ہوئے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے چھ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ حکام کے مطابق کالعدم بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) سے وابستہ عناصر کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر آپریشن شروع کیا گیا۔ علاقے کو محفوظ بنانے کے دوران شدت پسندوں نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ جھڑپ کے بعد چھ شدت پسند مارے گئے جبکہ سکیورٹی فورسز کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ ہلاک شدہ شدت پسندوں کی لاشیں تحویل میں لے لی گئیں اور اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ بعد ازاں علاقے میں مکمل سرچ آپریشن کے بعد اسے کلیئر قرار دے دیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن علاقے میں امن و استحکام کی بحالی اور تخریبی نیٹ ورکس کے خاتمے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق باجوڑ کے علاقے کوئی سرا میں دہشت گردوں کے حملے کو سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، جس میں ایک شدت پسند مارا گیا۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے سکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملے کی کوشش کی، جس پر پولیس اور سکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک جبکہ دیگر فرار ہو گئے۔ بعد ازاں علاقے میں مکمل کنٹرول حاصل کر کے کلیئرنس آپریشن کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں نگرانی اور گشت مزید سخت کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران کے علاقے دازن تمپ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گرد مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت عزت اور جمعہ کے نام سے ہوئی، جو دازن تمپ کے رہائشی تھے۔ واقعے کے بعد مقامی حکام موقع پر پہنچ گئے اور تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حملہ آوروں کا سراغ لگانے اور واقعے کی وجوہات جاننے میں مصروف ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے وسطی کرم کے علاقے مرگن میں انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کرتے ہوئے کالعدم ٹی ٹی پی قاظم گروپ سے تعلق رکھنے والے 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں ایک انتہائی مطلوب شدت پسند بھی شامل تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق شدت پسندوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر آپریشن شروع کیا گیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تمام دہشت گرد مارے گئے۔ ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا اہم کمانڈر متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھا اور فورسز کو مطلوب تھا۔ آپریشن کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ذرائع کے مطابق تیراہ ویلی میں شدت پسندوں نے مقامی جرگہ کے ایک رکن کو اغوا کر لیا، جس کے بعد دیگر جرگہ ارکان نے شدت پسندوں کے خلاف مقامی مزاحمت شروع کرنے پر غور کیا ہے۔ اغوا ہونے والے کی شناخت ملک اسلام غنی کے نام سے ہوئی، جو 24 رکنی جرگہ کا حصہ تھے۔ واقعے کے بعد جرگہ ارکان نے مشاورت شروع کی اور ہنگامی جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا تاکہ شدت پسند عناصر کے خلاف منظم مقامی مزاحمت پر غور کیا جا سکے۔ ایک جرگہ رکن نے خیبر کرانیکلز سے گفتگو میں کہا کہ شدت پسندوں کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اگر اغوا شدہ رکن کو کوئی نقصان پہنچایا گیا تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔

More posts