Baaghi TV

خیبرپختونخوا،بلوچستان ،ملک دشمن عناصر کیخلاف سیکورٹی فورسزمتحرک،متعددجہنم واصل

polic

خیبر پختونخوا،بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ پانچ دنوں سے ضلع کیچ کے منڈو علاقے میں پاکستانی فوج کی نقل و حرکت اور تعیناتی جاری ہے۔ تاہم سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی علاقے میں امن و امان اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اہلکاروں اور سازوسامان کی بڑھتی ہوئی موجودگی قانون نافذ رکھنے کی ایک مربوط کوشش کا حصہ ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ بدامنی کو روکنے کے لیے صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے سوراب اور رودنجو کے درمیان آر سی ڈی شاہراہ پر بٹگو کراس کے مقام پر ناکہ بندی کی۔ ذرائع کے مطابق سائنڈک جانے والا ایک قافلہ، جو پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی نگرانی میں تھا، حملے کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں تقریباً ایک گھنٹے تک شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ حکام کے مطابق بعد ازاں صورتحال قابو میں کر لی گئی اور قافلہ بحفاظت اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گیا۔ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے اطراف میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

جدید نگرانی اور حفاظتی ٹیکنالوجی سے لیس ایک خصوصی سیکیورٹی کوچ کو جعفر ایکسپریس پر تعیناتی کے لیے کوئٹہ پہنچا دیا گیا ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق اس کوچ کا دو ہفتے کا آزمائشی دور مکمل کیا جائے گا تاکہ مسافروں کی حفاظت میں اس کی افادیت کا جائزہ لیا جا سکے۔ حکام نے بتایا کہ کوچ میں جدید مانیٹرنگ سسٹمز اور حفاظتی سہولیات نصب ہیں، جن کا مقصد تخریب کاری کو روکنا اور حساس علاقوں میں ردعمل کی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔ آزمائشی مرحلے کے دوران تکنیکی کارکردگی اور آپریشنل تیاری کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ یہ اقدام 11 مارچ کے اس واقعے کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں مسلح افراد نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے مسافروں کو یرغمال بنایا تھا، جس سے ٹرین سیکیورٹی پر سنگین خدشات پیدا ہوئے تھے۔ ریلوے حکام کے مطابق یہ کوچ مسافروں اور ریلوے انفراسٹرکچر کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے وسیع تر اقدامات کا حصہ ہے۔ آزمائشی مدت کے بعد مستقل تعیناتی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

قابلِ اعتماد سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ خطے میں سرگرم دو کالعدم عسکری تنظیموں، نام نہاد بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF)، کے درمیان شدید اندرونی جھڑپیں ہو رہی ہیں، جو عسکری نیٹ ورکس کے اندر گہرے اختلافات کو ظاہر کرتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق تصادم کھلی مسلح لڑائی میں تبدیل ہو چکا ہے اور دونوں گروہ ایک دوسرے کی قیادت اور اہم کارکنوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم آٹھ بی ایل ایف اور تین بی ایل اے کے جنگجو مارے جا چکے ہیں۔ یہ لڑائیاں پاکستان اور ایران دونوں میں مختلف مقامات پر ہو رہی ہیں، جو سرحد پار عسکری سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ جھڑپیں پرانی دشمنیوں، اندرونی اقتدار کی کشمکش اور وسائل و اثر و رسوخ کے لیے مقابلے کا نتیجہ ہیں۔ دونوں جانب کے حکام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ تنازع مجموعی سیکیورٹی صورتحال کو متاثر کر سکتا ہے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور سعودی عرب میں منعقد ہوا، تاہم گزشتہ دو ادوار کی طرح اس بار بھی کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ سفارتی کوششوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اہم مسائل بدستور حل طلب ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مذاکرات کا خواہاں ہے لیکن اپنے سیکیورٹی خدشات کے حل کے لیے عملی اقدامات کی توقع رکھتا ہے۔ نائب وزیراعظم نے بتایا کہ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ چار روزہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے 80 میں سے 79 بھارتی ڈرونز کو ناکارہ بنایا، جو دفاعی نظام کی تیاری اور مؤثریت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے افغان علما کے بیرونِ ملک جنگ کے خلاف اعلان اور افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے اس بیان کا خیرمقدم کیا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ اسحاق ڈار نے ان اقدامات کو مثبت اشارے قرار دیا مگر عملی نفاذ پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کو افغانستان کے لیے انسانی امداد اپنی سرزمین کے ذریعے بھیجنے کی اجازت دی ہے۔

اغوا کیے گئے ایس ایچ او صدیق خان کو شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی آپریشن کے بعد بحفاظت بازیاب کر لیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق صدیق خان ایک روز قبل بنوں سے میرانشاہ جاتے ہوئے میرعلی کے علاقے میں لاپتہ ہو گئے تھے۔ ان کی گمشدگی کے بعد سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔ پولیس کے مطابق انہیں کوئی سنگین چوٹ نہیں آئی۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

دہشت گردوں نے لکی مروت کے علاقے عباسی خٹک کرم پارہ میں امن کمیٹی کے صدر ہمایوں کی رہائش گاہ پر راکٹ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق راکٹ حملے سے گھر کو نقصان پہنچا۔ زخمی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

ضلع خیبر کے علاقے بادہ میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق دھماکہ شلوبراسیڈ کریم چیک پوسٹ کے قریب ہوا، جس سے گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

لکی مروت کے علاقے ٹپ تختی خیل میں پولیس، امن کمیٹی کے صدر اور عوام کے مشترکہ اقدام کے دوران دہشت گردوں کے پانچ افغان سہولت کار گرفتار کر لیے گئے۔ ذرائع کے مطابق ملزمان کے قبضے سے واٹس ایپ اور میسنجر سے حاصل شدہ ڈیجیٹل شواہد بھی برآمد ہوئے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ گرفتاریوں کے بعد دو مبینہ دہشت گرد مراکز اور چھ گھروں کو آگ لگا دی گئی، تاہم حکام کی جانب سے اس بارے میں تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

بنوں کے علاقے جانی خیل پویا میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں ہلاک ہونے والے تین دہشت گردوں کی شناخت ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان میں ہلال اورکزئی، احمد ڈومیل وال اور حافظ حمزہ شامل ہیں، جو کالعدم گل بہادر گروپ سے تعلق رکھتے تھے اور متعدد دہشت گردی کے واقعات میں مطلوب تھے۔ حکام کے مطابق علاقے کی نگرانی اور فالو اپ کارروائیاں جاری ہیں۔

لکی مروت کے علاقے تختی خیل میں امن کمیٹی، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشن کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے نو تعینات کمانڈر سمیت کم از کم آٹھ دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جبکہ بارہ سے زائد زخمی ہوئے۔ ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مولوی نصرت اللہ وزیر المعروف مولوی نصرت شامل ہے، جسے دو دن قبل ہی بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ریجن کے لیے امیر مقرر کیا گیا تھا۔ آپریشن انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا۔ حکام کے مطابق تین لاشیں قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دی گئی ہیں جبکہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

More posts