اسرائیلی فوج کو درپیش لاجسٹک مسائل ایک نئے بحران کی صورت اختیار کر گئے ہیں، جہاں بنکرز کی کمی کے باعث بعض اہلکاروں نے ڈیوٹی انجام دینے سے انکار کر دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق فوج کے رضاکار اہلکاروں نے راکٹ اور میزائل حملوں کے دوران ناکافی تحفظ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان کی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں، تاہم اس کے باوجود انہیں مناسب حفاظتی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حکام کی جانب سے بنکرز کی فراہمی کو بارہا لاجسٹک مسائل کا جواز بنا کر مؤخر کیا جا رہا ہے، جس پر فوجیوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ایک اسرائیلی فوجی نے صورتحال کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ "جب سائرن بجتا ہے تو ہم صرف ہیلمٹ پہن کر بیٹھ جاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ کچھ نہ ہو۔”ایک اور اہلکار نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی زخمی ہو جائے تو کیا صرف افسوس کا اظہار ہی کافی ہوگا؟ ان کا کہنا تھا کہ فوج کو اپنے اہلکاروں کے تحفظ کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔اہلکاروں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "جو فوج دو ہزار کلومیٹر دور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، کیا وہ اپنے ہی سپاہیوں کو ایک محفوظ بنکر فراہم نہیں کر سکتی؟”
