لاہور کے علاقے میں سیوریج لائن میں گر کر ماں بیٹی کے جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے پر لاہور ہائیکورٹ نے ٹیکسالی گیٹ اور شیرانوالہ گیٹ کے علاقوں میں جاری انڈ گراؤنڈ پارکنگ پروجیکٹ کو فوری طور پر روکنے کا حکم دے دیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں اس سانحے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انڈ گراؤنڈ پارکنگ منصوبے کے دوران حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے میں ڈال دی گئی ہیں، جس کا نتیجہ ماں بیٹی کی جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ شہری علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے دوران حفاظتی اقدامات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی منصوبے کی وجہ سے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کو پیر کے روز ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ واقعے سے متعلق صوبائی حکومت کا واضح مؤقف اور ذمہ داران کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات پیش کریں۔
اس کے ساتھ ہی عدالت نے ڈی جی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کو بھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے تاکہ منصوبے کی منظوری، نگرانی اور حفاظتی اقدامات سے متعلق مکمل ریکارڈ عدالت کے سامنے رکھا جا سکے۔عدالت نے مزید کہا کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ منصوبے کے دوران غفلت یا لاپرواہی برتی گئی تو ذمہ دار افسران اور متعلقہ اداروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہوئے واقعے سے متعلق مکمل رپورٹ طلب کر لی ہے۔
