لاہور ہائیکورٹ کا گلوکار علی ظفر کے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کیس میں اہم فیصلہ سامنے آگیا، لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو گلوکار علی ظفر کے ہتک عزت کے دعوی کا 30 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔
عدالت نے اداکارہ میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوی پر بیان دینے سے روکنے کے خلاف درخواست مسترد کردی، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے اداکارہ میشا شفیع کی درخواست مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا،میشا شفیع نے دعوی کے حتمی فیصلے تک بیان نہ دینے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلے میں کہاکہ ٹرائل کورٹ کا ہتک عزت کے دعوی کے حتمی فیصلے تک بیان دینے سے روکنے کا فیصلہ درست ہے، اظہار رائے کے معاملے پر عدالت بڑا احتیاط برتتی ہیں،میشا شفیع کے وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ ہتک عزت کے معاملے پر حکم امتناعی نہیں دیا جاسکتا، عدالت کے پاس اختیار ہے وہ حتمی فیصلے تک بیان دینے سے روک سکتی ہے۔
ٹرائل کورٹ نے میشا شفیع کو 24 جنوری 2019 کو ہتک عزت کے کیس پر بیان دینے سے روکا تھا ا،داکارہ میشا شفیع نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا ،عدالت نے اداکارہ و گلوکارہ میشا شفیع کی ہتک عزت دعویٰ پر بیان دینے سے روکنے کے خلاف درخواست مسترد کردی ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد علی ظفر کے وکیل کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے میشا شفیع کی جانب سے دائر کی گئی وہ رِٹ پٹیشن خارج کر دی ہے، جس میں انہوں نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکمِ امتناع کو چیلنج کیا تھا۔ معزز عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کو برقرار رکھا ہے اور واضح طور پر اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے کہ میشا شفیع کو آزادیٔ اظہارِ رائے کے نام پر آپ کے خلاف عوامی بیانات جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔عدالت عالیہ نے دوٹوک الفاظ میں قرار دیا ہے کہ آزادیٔ اظہار ایک مطلق حق نہیں ہے اور اس کا دائرہ اختیار اس حد تک نہیں بڑھایا جا سکتا کہ اس کے تحت لاپرواہ، بار بار دہرائے جانے والے یا غیر ثابت شدہ الزامات لگائے جائیں جو کسی دوسرے شخص کی عزت، وقار اور ساکھ کو نقصان پہنچائیں، بالخصوص اس صورت میں جب معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو۔
فیصلے میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 پر خصوصی زور دیا گیا ہے، جس کے مطابق انسانی وقار ناقابلِ تنسیخ ہے۔ فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ ایسے الزامات کی مسلسل تشہیر ایک متوازی میڈیا ٹرائل کے مترادف ہوگی، جو کہ ناقابلِ قبول ہے، اور یہ کہ ساکھ کا تحفظ ایک بنیادی آئینی قدر ہے۔مزید برآں، عدالت نے اس امر کی بھی توثیق کی ہے کہ ہتکِ عزت کے معاملات میں عبوری پابندی غیر معمولی حالات میں جائز ہے، جیسا کہ موجودہ معاملہ، جہاں ساکھ کو پہنچنے والا ناقابلِ تلافی نقصان محض مالی معاوضے سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ ہائی کورٹ نے معزز ٹرائل کورٹ کو یہ بھی ہدایت جاری کی ہے کہ میشا شفیع کے خلاف آپ کی جانب سے دائر کردہ ہتکِ عزت کے اصل مقدمے کو تیزی سے نمٹایا جائے اور ترجیحاً تیس (30) دن کے اندر فیصلہ سنایا جائے، کیونکہ معاملہ اس وقت حتمی دلائل کے مرحلے میں ہے۔
