Baaghi TV

لاہور میں منکی پاکس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ، میو اسپتال میں 21 مریض رپورٹ

monkepox

لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور میں منکی پاکس (Monkeypox) کے کیسز میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں میو اسپتال میں اب تک مجموعی طور پر 21 مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق ان میں سے 9 مریض اس وقت بھی میو اسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ دیگر مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں۔

میو اسپتال کے ترجمان کے مطابق منکی پاکس سے متاثرہ مریضوں میں 2 بچے بھی شامل ہیں، جن میں ایک کی عمر صرف 2 ماہ جبکہ دوسرے کی عمر ایک سال بتائی جا رہی ہے۔ کم عمر بچوں میں وائرس کی تصدیق نے والدین اور طبی ماہرین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ وائرس کی منتقلی ایک سے دوسرے انسان میں جلد کے براہِ راست رابطے یا سانس کے ذریعے ہوئی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق متاثرہ مریضوں میں سے کسی کی بھی بیرونِ ملک سفری تاریخ (ٹریول ہسٹری) سامنے نہیں آئی، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وائرس مقامی سطح پر پھیل رہا ہے۔

میو اسپتال انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ رواں برس منکی پاکس کے باعث 3 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں، جس کے بعد بیماری کی سنگینی مزید واضح ہو گئی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں بھی کم عمر بچے شامل ہیں، جس پر محکمہ صحت نے صورتحال کو نہایت حساس قرار دیا ہے۔تشویشناک امر یہ بھی ہے کہ منکی پاکس کی لپیٹ میں طبی عملہ بھی آ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2 پیرا میڈیکل اسٹاف کے ارکان اور ایک نرس میں بھی منکی پاکس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد اسپتال میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ طبی عملے کو حفاظتی لباس، ماسک اور دستانوں کے استعمال کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ مریضوں کو آئسولیشن وارڈز میں رکھا گیا ہے اور ان کے قریبی رابطوں کی اسکریننگ کا عمل بھی جاری ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد پر غیر معمولی دانوں، بخار یا جسم میں درد کی صورت میں فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کریں اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔

دوسری جانب ماہرین صحت نے عوام پر زور دیا ہے کہ گھبراہٹ کے بجائے احتیاط اختیار کی جائے، صفائی کا خاص خیال رکھا جائے اور مشتبہ مریض سے غیر ضروری جسمانی رابطے سے گریز کیا جائے، تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

More posts