امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک خفیہ امریکی انٹیلی جنس جائزے میں خبردار کیا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر فوجی حملوں کے باوجود ایران کی موجودہ حکومت کو ہٹانا آسان نہیں ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق یہ تجزیہ نیشنل انٹیلیجنس کونسل کے سینئر ماہرین نے تیار کیا ہے جو امریکا کی 18 انٹیلیجنس ایجنسیوں سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر خفیہ رپورٹس مرتب کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے آغاز سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے مکمل کی گئی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو ملک کی مذہبی اور فوجی قیادت پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق فوری ردعمل دے سکتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ ایران کی اپوزیشن کے اقتدار سنبھالنے کے امکانات بھی انتہائی کم ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اب تک ایران میں نہ تو بڑے پیمانے پر عوامی بغاوت کے آثار دیکھے گئے ہیں اور نہ ہی حکومتی ڈھانچے کے اندر ایسا کوئی واضح اختلاف سامنے آیا ہے جس سے نظام کی تبدیلی ممکن ہو۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں مذہبی اور فوجی قیادت کا کنٹرول ابھی بھی مضبوط ہے اور صرف فوجی کارروائیوں کے ذریعے موجودہ نظام کو تبدیل کرنا مشکل ہوگا۔
بڑے فوجی حملوں سے بھی ایران کی حکومت نہیں گرے گی، امریکی انٹیلی جنس رپورٹ
