لاہور میں روزمرہ استعمال کی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق سبزیوں اور گوشت کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ عام آدمی کے لیے خریداری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔ اسی طرح لہسن کی سرکاری قیمت 550 روپے مقرر ہے لیکن مارکیٹ میں یہ 600 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ ادرک کی قیمت بھی کنٹرول سے باہر نظر آتی ہے، جہاں سرکاری نرخ 285 روپے ہیں مگر مارکیٹ میں یہ 350 روپے فی کلو دستیاب ہے۔
پیاز کی صورتحال بھی مختلف نہیں، سرکاری قیمت 62 روپے فی کلو ہونے کے باوجود مارکیٹ میں یہ 70 سے 75 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ سبز مرچ کی قیمت میں سب سے زیادہ فرق دیکھا گیا ہے، جہاں سرکاری نرخ 105 روپے ہیں لیکن شہریوں کو یہ 180 روپے فی کلو خریدنا پڑ رہی ہے۔
شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹماٹر جیسی بنیادی سبزی بھی اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے اور حکومت فوری اقدامات کرے تاکہ قیمتوں میں کمی لائی جا سکے۔
دوسری جانب دکانداروں کا مؤقف ہے کہ ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات میں اضافے کے باعث قیمتیں بڑھانا مجبوری بن گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر اخراجات کم ہوں تو وہ بھی سستی اشیا فراہم کرنے کے خواہاں ہیں۔
صرف سبزیاں ہی نہیں بلکہ گوشت کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ مرغی کے گوشت کی سرکاری قیمت 595 روپے ہے جبکہ مارکیٹ میں یہ 600 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ مٹن کی سرکاری قیمت 1600 روپے ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 3000 سے 3300 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔
لاہور میں مہنگائی کا طوفان، سبزیاں اور گوشت عوام کی پہنچ سے باہر
