Baaghi TV

لسانیات اور نسل نو ،تحریر: اظہر سجاد

زبان محض اظہارِ خیال کا وسیلہ نہیں بلکہ تہذیب، شناخت، جذبات اور ثقافتی ورثے کی امین بھی ہوتی ہے۔ انسان اپنے احساسات، خیالات اور تجربات زبان ہی کے ذریعے دوسروں تک منتقل کرتا ہے اور اسی کے ذریعے معاشرے میں باہمی ربط اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے کثیراللسانی ملک میں بچوں کی شخصیت کی تشکیل بھی مختلف زبانوں کے امتزاج سے ہوتی ہے، جہاں گھر، اسکول، میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی سب مل کر ان کی لسانی دنیا کو تشکیل دیتے ہیں۔

بچہ اپنی زندگی کا پہلا سبق مادری زبان میں سیکھتا ہے۔ یہی زبان اس کی شناخت، خاندانی اقدار اور مقامی ثقافت سے اس کا رشتہ مضبوط کرتی ہے۔ بعد ازاں اسکول میں اردو اور انگریزی، دینی تعلیم کے ذریعے عربی، جبکہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دیگر زبانیں اس کی گفتگو اور فکر کا حصہ بن جاتی ہیں۔ یوں پاکستانی بچے ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جہاں کئی زبانیں بیک وقت ان کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

آج ٹی وی، موبائل فون، انٹرنیٹ، یوٹیوب، گیمز اور سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ اردو قومی زبان ہونے کے باعث تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے بچوں تک پہنچتی ہے، جبکہ انگریزی جدید تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور عالمی رابطوں کی زبان ہونے کی وجہ سے روزمرہ زندگی میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔ عربی زبان قرآنِ کریم، دینی تعلیم اور اسلامی اصطلاحات کے ذریعے بچوں کے ذہنوں میں راسخ ہوتی ہے، جبکہ ہندی زبان بھارتی ڈراموں، فلموں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی گفتگو میں شامل ہونے لگی ہے۔

متعدد زبانوں سے شناسائی کے کئی مثبت پہلو بھی ہیں۔ اس سے بچوں کی ذہنی استعداد، سیکھنے کی صلاحیت، اعتماد اور مختلف ثقافتوں کو سمجھنے کا شعور بڑھتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ بعض خدشات بھی جنم لیتے ہیں۔ اکثر بچے مختلف زبانوں کے الفاظ ملا کر گفتگو کرتے ہیں، جس سے نہ صرف زبان کا حسن متاثر ہوتا ہے بلکہ تلفظ اور درست اظہار میں بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ مزید یہ کہ مادری زبان سے دوری مقامی ثقافت، روایات اور قومی شناخت کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔

اس صورتِ حال میں والدین، اساتذہ اور معاشرے کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔ گھروں میں مادری زبان کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے، بچوں کو معیاری اردو، دینی اور تعلیمی پروگراموں سے روشناس کرایا جائے، کتاب بینی اور اردو ادب کا ذوق پیدا کیا جائے، اور میڈیا کے استعمال پر مناسب نگرانی رکھی جائے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں قومی اور مادری زبان کی اہمیت اجاگر کی جائے تاکہ نئی نسل اپنی تہذیبی جڑوں سے مضبوطی سے وابستہ رہ سکے۔

زبانیں سیکھنا یقیناً ترقی، علم اور عالمی روابط کی ضرورت ہے، مگر اس سفر میں اپنی مادری زبان اور قومی شناخت کو فراموش کرنا دانش مندی نہیں۔ متوازن لسانی تربیت ہی وہ راستہ ہے جس سے ہماری نئی نسل جدید دنیا کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ رہ سکتی ہے اور اپنی تہذیبی شناخت کو بھی محفوظ رکھ سکتی ہے۔

More posts