Baaghi TV

حیوانیت،ماں نے بیٹے کے علاج کے لیے بیٹی کو “قربان” کر دیا

بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع ہزارہ باغ میں انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک ماں نے توہم پرستی اور کالے جادو کے چکر میں آ کر اپنی 12 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا۔

پولیس کے مطابق 35 سالہ ریشمی دیوی نے اپنے مبینہ عاشق بھیم رام کے ساتھ مل کر یہ سنگین جرم کیا۔ بتایا گیا ہے کہ خاتون ایک عاملہ (تانترک) شانتی دیوی کے پاس باقاعدگی سے جاتی تھی، جس نے اسے مشورہ دیا کہ اس کے بیمار بیٹے کی صحت یابی اور گھریلو مسائل کے حل کے لیے ایک “کنواری لڑکی” کی قربانی دینا ضروری ہے۔ملزمہ کو یہ بھی باور کرایا گیا کہ اس کی بیٹی پر دیوی کا سایہ ہے، اس لیے اس کی قربانی “نہایت مقدس” سمجھی جائے گی۔ اس بہکاوے میں آ کر ماں نے اپنی ہی بیٹی کی جان لے لی۔

پولیس کے مطابق یہ دلخراش واقعہ 24 مارچ کو ہندو تہوار نوراتری کے آٹھویں دن (اشٹمی) کی رات پیش آیا۔ واردات کے دوران ماں نے بچی کو پکڑے رکھا جبکہ بھیم رام نے اس کا گلا گھونٹ دیا۔55 سالہ ‘تانترک’ نے پھر لڑکی کی شرمگاہ کے اندر لکڑی کی چھڑی داخل کی، اور بھیم رام نے رسم کے لیے خون نکالنے کے لیے اس کے سر پر مارا۔ رسم کے لیے مزید تشدد کیا گیا اور قتل کے بعد لاش کو گھر کے باغ میں دفنا دیا گیا۔اگلی صبح بچی کی لاش ملنے پر پولیس نے تحقیقات شروع کیں۔ دوران تفتیش ملزمان نے واقعے کو ریپ کا رنگ دینے کی کوشش کی، تاہم پوسٹ مارٹم اور فارنزک رپورٹ میں اس کی تردید ہو گئی۔پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان ریشمی دیوی، بھیم رام اور عاملہ شانتی دیوی کو گرفتار کر لیا ہے۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ ریشمی دیوی اور بھیم رام کے درمیان گزشتہ 10 سال سے تعلقات تھے، جبکہ خاتون کا شوہر مہاراشٹر میں ملازمت کرتا ہے اور اکثر گھر سے دور رہتا ہے۔ پولیس کے مطابق بھیم رام پر پہلے بھی قتل کے مقدمات درج ہیں

More posts