فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس نے ڈنمارک سے اظہارِ یکجہتی کے لیے گرین لینڈ میں فوج بھیج دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر میکرون نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یورپ کو بعض اہم شعبوں میں چین کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، تاہم یورپ کو ’’یورپ ترجیح‘‘ کے اصول پر ثابت قدم رہنا ہوگا۔
صدر میکرون کا کہنا تھا کہ فرانس چاہتا ہے یورپ عالمی مالیاتی اداروں کے اسٹرکچر پر مضبوط مؤقف اختیار کرے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا پابندیوں کے ذریعے دیگر ممالک کو اپنے تابع کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ تجارتی مساوی مواقع کا مطالبہ بے جا تحفظ پسندی نہیں۔ ان کے بقول دنیا ایک ایسے مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں اصول کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی ٹیرف کے اعلان کے بعد برلن اور پیرس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی بنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے پیر کے روز کہا کہ برلن اور پیرس اس ہفتے برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے 27 رہنماؤں کے اجلاس سے قبل امریکی ٹیرف دھمکیوں کو ناکام بنانے کے لیے قریبی مشاورت کریں گے۔
اتوار کو فرانسیسی صدر کے دفتر نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ بلاک کے انسدادِ جبر ضابطے کو فعال کرے، جسے ’’ٹریڈ بزوکا‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم امریکا کے ساتھ تجارت پر زیادہ انحصار کے باعث جرمنی، فرانس کے مقابلے میں واشنگٹن کے خلاف سخت جوابی اقدامات پر اب تک محتاط رویہ اختیار کرتا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی ٹی وی کو دیے گئے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ دنیا اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک گرین لینڈ امریکا کے کنٹرول میں نہ ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گرین لینڈ حاصل کرنا امریکا کی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ طاقت کے استعمال سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
امریکی صدر نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر دباؤ ڈالنے کے لیے ڈنمارک سمیت آٹھ یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں نوبل امن انعام کی کوئی پروا نہیں، کیونکہ یہ ناروے کے کنٹرول میں ہے، چاہے وہ اس کی تردید ہی کیوں نہ کریں۔
صدر میکرون کا اعلان، ڈنمارک سے یکجہتی کے لیے گرین لینڈ میں فرانسیسی فوج تعینات
