لاہور میں محفوظ بسنت کے لیے پولیس نے 27 نکاتی سیکیورٹی پلان لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروا دیا۔
سیکیورٹی پلان کے مطابق بسنت کے دنوں میں فری رکشا سروس کے لیے 5 ہزار رکشے فراہم کیے جائیں گے۔ ریڈ زونز میں بغیر انٹینا موٹر سائیکل لانے کی اجازت نہیں ہوگی،عدالت میں جمع کروائے گئے سیکیورٹی پلان میں کہا گیا ہے کہ موٹر سائیکل سوار دونوں افراد کے لیے ہیلمٹ لازمی ہوگا۔ پتنگ اڑانے کے لیے صرف منظورہ شدہ کاٹن کا دھاگا استعمال کرنے کی اجازت ہوگی،سیکیورٹی پلان کے مطابق کیمیکل اور دھاتی ڈور بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کوئیک رسپانس ٹیمز موجود رہیں گی۔ بسنت کے لیے لاہور کو لال،پیلےاور ہرے زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔چھتوں پر شراب نوشی، ہوائی فائرنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔
لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت بسنت کےذریعےعوامی جان و مال کو خطرے میں ڈال رہی ہے،ماضی میں دھاتی ڈور اور کیمیکل ڈور سے ہلاکتیں ہوچکی ہیں،2001 اور 2024 کے قوانین کے باوجود ہلاکتیں نہ رک سکیں۔نیا قانون عوامی مفاد کے خلاف ہے،پتنگ بازی مزید جانی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔چین میں بسنت فیسٹیول کےطور پر منائی جاتی ہے،چین میں پیچ نہیں لڑائے جاتےنہ ہی انسانی جانوں سے کھیلا جاتاہے،چائنہ جاپان میں ڈور نہیں بنتی لوگ پیچے نہیں لگاتے۔ہلاکتوں کے اعدادوشمار، ایف آئی آرز اور نفاذ سے متعلق تفصیلات سامنے لائی جائیں۔پتنگ بازی کی بحالی سے ہونے والا ہر جانی نقصان حکومت پر عائد ہونا چاہئیے۔عدالت بسنت منانے کاقانون واپس لینے کے احکامات صادر کرے۔
