شمالی علاقہ جات کی وادیاں صرف خوبصورت مناظر نہیں،
یہ ایک زندہ تہذیب، ایک حساس ماحولیاتی نظام اور صدیوں پر محیط ثقافت کی امین ہیں۔
مگر افسوس کہ آج جاری سیاحت فطرت دوست ہونے کے بجائے آہستہ آہستہ ماحول دشمن بنتی جا رہی ہے۔
غیر منصوبہ بند اور بے ہنگم سیاحت کے نتیجے میں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔بڑی تعداد میں ہوٹلز اور ریزورٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں،جس کے باعث سرسبز وادیاں کنکریٹ کے ڈھانچوں میں بدلتی جا رہی ہیں۔یہ ترقی نہیں، فطرت سے بغاوت ہے۔
سیاحت کے ساتھ آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر، پلاسٹک شاپرز اور ریپرز اس بات کی گواہی دیتے ہیں،کہ ہم وادیوں کو سیرگاہ نہیں بلکہ استعمال کی جگہ سمجھنے لگے ہیں۔شور شرابا، اونچی آواز میں میوزک اور ہنگامہ آرائی،فضا کو شدید صوتی آلودگی سے دوچار کر رہی ہے،جس سے انسان، فطرت اور جنگلی حیات تینوں متاثر ہو رہے ہیں۔
انتہائی تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کئی ہوٹلز نے اپنی سیوریج اور گٹر لائنیں دریاؤں کی طرف موڑ رکھی ہیں۔وہ دریا جو ہماری زندگی، ہماری شناخت اور آنے والی نسلوں کی امید ہے،آج کچرے اور گندگی کی نذر ہو رہے ہیں ۔یہ صرف غفلت نہیں، یہ کھلا ماحولیاتی جرم ہے۔
سیاحت کے منفی اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں رہے۔مقامی ثقافت اور روایات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔لباس، رویّوں اور طرزِ عمل میں عدم توازن ،مقامی معاشرے، اقدار اور خاص طور پر بچوں کی ذہنی کیفیات پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔یہ وہ نقصان ہے جو خاموش ہوتا ہے مگر گہرا ہوتا ہے۔
آج کی سیاحت سے اصل فائدہ صرف کمرشل ازم کو ہو رہا ہے،جبکہ نقصان پوری وادی، پوری ثقافت اور پورا ماحول اٹھا رہا ہے۔
اس بحران کا واحد پائیدار حلایکو ٹورازم (Eco-Tourism) ہے۔ایسی سیاحت جو ماحول کو نقصان نہ پہنچائے
، مقامی ثقافت اور روایات کا احترام کرے، فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو، ترقی کے ساتھ تحفظ کو یقینی بنائے
سیاحوں کو ایجوکیٹ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ وادیوں میں آ کر مقامی روایات کا خیال رکھیں، مقامی لوگوں سے میل جول رکھیں، مقامی ٹور گائیڈز، جیپس اور سروسز استعمال کریں، اپنے ساتھ لایا گیا کچرا واپس بیگ میں رکھیں یا ڈسٹ بن میں ڈالیں
سیاحت ایک باعزت اور مقدس پیشہ ہے،
جس سے جُڑ کر ہم سب رزقِ حلال کما سکتے ہیں۔
