Baaghi TV

ایران میں امریکی پائلٹ کی تلاش، ماہرین نے صورتحال کو “بلی چوہے کا کھیل” قرار دے دیا

ایران میں امریکی فضائیہ کے ایک جنگی طیارے کے تباہ ہونے کے بعد لاپتہ پائلٹ کی تلاش کے لیے جاری آپریشن انتہائی حساس اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

سابق برطانوی فضائیہ کے پائلٹ جان پیٹرز نے موجودہ صورتحال کو “بلی اور چوہے کا کھیل” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ اور سیاسی طور پر نہایت اہم مرحلہ ہے۔اسکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جان پیٹرز کا کہنا تھا کہ امریکی افواج اپنے ساتھی پائلٹ کو تلاش کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں، جس میں خصوصی یونٹس شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ “امریکی فورسز اپنے ساتھی کو نکالنے کے لیے مکمل حکمت عملی کے ساتھ کام کریں گی، جبکہ ایرانی فورسز بھی علاقے کو گھیرنے کی کوشش کریں گی کیونکہ یہ اب ایک سیاسی کھیل بن چکا ہے، جو انہیں بڑا فائدہ دے سکتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ریسکیو صلاحیتیں “غیر معمولی حد تک مضبوط” ہیں اور اس آپریشن کے لیے وسیع وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

رپورٹس کے مطابق تباہ ہونے والے جنگی طیارے ایف 15 میں سوار دو رکنی عملے میں سے ایک پائلٹ کو بچا لیا گیا ہے جبکہ دوسرا تاحال لاپتہ ہے۔جان پیٹرز کا کہنا تھا کہ “میری تمام تر ہمدردیاں اس وقت اس فضائی عملے کے ساتھ ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ انہیں کیا کرنا ہے اور امید ہے کہ وہ اپنی تربیت کو بروئے کار لاتے ہوئے محفوظ نکال لیے جائیں گے۔”

بین الاقوامی تجزیہ کار ڈیانا منگنے کے مطابق یہ واقعہ فضائی جنگ کے خطرات کو واضح کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی حکام نے مبینہ طور پر لاپتہ پائلٹ کی گرفتاری پر 60 ہزار ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے،امریکی خصوصی فورسز کے علاقے میں موجود ہونے کی اطلاعات ہیں،ریسکیو آپریشن انتہائی خطرناک نوعیت اختیار کر چکا ہے

ایرانی فضائی دفاع کے کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فورسز نے کئی جدید جنگی طیارے تباہ کیے،درجنوں کروز میزائل مار گرائے،160 سے زائد ڈرونز تباہ کیے

جان پیٹرز، 1991 کی خلیجی جنگ کے دوران انکا طیارہ عراق میں مار گرایا گیا تھا، نے اپنے تجربے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میزائل لگنے کے بعد طیارہ زمین کے قریب گھوم گیا،طیارے کے گرد شعلوں کا ایک بڑا دائرہ بن گیا،زمین پر اترتے ہی 20 کے قریب عراقی فوجیوں نے فائرنگ کی اور انہیں گرفتار کر لیا،ان کی گرفتاری کے بعد تشدد زدہ تصاویر عالمی میڈیا پر نشر ہوئیں، جو جنگی قیدیوں کے خطرات کو ظاہر کرتی ہیں۔

یہ واقعہ امریکی دعوؤں کے برعکس سامنے آیا ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور امریکی افواج کو مکمل فضائی برتری حاصل ہے۔تاہم ایف-15 طیارے کا گرنا اس دعوے پر سوالیہ نشان بن گیا ہے

ادھر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ مسلح ایرانی افراد امریکی ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ کر رہے ہیں، جو لاپتہ پائلٹ کی تلاش میں مصروف تھے۔ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ریسکیو آپریشن کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا رہی ہے، جہاں ہر لمحہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

ایران میں گرنے والے امریکی طیارے کے پائلٹ کی تلاش پر 66 ہزار ڈالرز انعام کی پیشکش
ان اطلاعات کے بعد کہ ایک امریکی لڑاکا طیارہ ایران میں مار گرایا گیا تھا، ایرانی آؤٹ لیٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ عملے کے دو ارکان میں سے ایک نے اجیکٹ کیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ ملک کے جنوب میں اُترا ہو۔امریکی حکام نے بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنر سی بی ایس کو بتایا ہے کہ طیارے کے پائلٹ کو بچا لیا گیا ہے، تاہم عملے کا ایک رُکن لاپتہ ہے۔ایرانی حکومت سے وابستہ ایرانی چینلز نے شہریوں کو انعامات کی پیشکش کرتے ہوئے پر زور دیا ہے کہ وہ ’پائلٹ کو زندہ پکڑ لیں۔‘ایرانی چینلز کے مطابق پائلٹ کو زندہ پکڑنے پر 66 ہزار امریکی ڈالرز انعام کی پیشکش کی گئی ہے۔بعض ایسی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں جس میں دو جنوبی صوبوں میں مسلح شہری امریکی عملے کے رکن کو تلاش کر رہے ہیں۔جنوبی صوبہ خوزستان کی ایک غیر تصدیق شدہ ویڈیو میں، متعدد افراد کو آتشیں اسلحہ اور اسلامی جمہوریہ کا جھنڈا اٹھائے ہوئے پائلٹ کو تلاش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس میں ایک شخص یہ کہہ رہا ہے، ’ان شاء اللہ، ہم اسے تلاش کر لیں گے،

More posts