میں باغی ہوں!
ہاں، میں باغی ہوں… مگر کسی ریاست کے خلاف نہیں، کسی شخص کے خلاف نہیں، کسی نظام کو گرانے کے لیے نہیں ہوں۔ میں تو ان رویوں کے خلاف باغی ہوں جو انسان کو انسان سے دور کر دیتے ہیں۔
میں اس خاموشی کے خلاف باغی ہوں جو ظلم دیکھ کر اختیار کر لی جاتی ہے۔
میں اس سوچ کے خلاف باغی ہوں جو بیٹی کی خواہش کو بوجھ سمجھتی ہے۔
میں اس معاشرے کے خلاف باغی ہوں جہاں انسان کی قدر اس کے کردار سے نہیں، اس کی جیب، لباس اور عہدے سے کی جاتی ہے۔
میں اس وقت بھی باغی ہو جاتی ہوں جب کوئی کمزور صرف اس لیے خاموش کر دیا جائے کہ اس کے پاس بولنے کی طاقت نہیں ہے۔
مجھے سکھایا گیا تھا کہ بڑوں کا احترام کرو، میں آج بھی کرتی ہوں۔ لیکن احترام کا مطلب یہ نہیں کہ غلط کو درست کہہ دوں۔ مجھے سکھایا گیا تھا کہ خاموشی اختیار کرو مگر میں نے یہ بھی سیکھا کہ ہر خاموشی صبر نہیں ہوتی ہے۔ کچھ خاموشیاں ظلم کی شریک بن جاتی ہیں۔
میں سوال کرتی ہوں۔
کیوں ہماری بیٹیوں کے خوابوں کی حد معاشرہ مقرر کرے؟
کیوں غریب کی عزت اس کی دولت سے ناپی جائے؟
کیوں سچ بولنے والا بدتمیز اور خوشامد کرنے والا سمجھدار کہلائے؟
کیوں ہم دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں، مگر اپنے گریبان میں دیکھنے سے گھبراتے ہیں؟
اگر یہ سوال کرنا بغاوت ہے تو ہاں، میں باغی ہوں۔
میں ان لفظوں کی باغی ہوں جو زبان سے تو محبت کی بات کرتے ہیں مگر دلوں میں نفرتیں پالتے ہیں۔ میں ان دعوؤں کی باغی ہوں جو عمل کے بغیر صرف تقریروں میں خوبصورت لگتے ہیں۔
لیکن میری بغاوت میں نفرت نہیں ہے۔
میری بغاوت میں کسی کو گرانے کی خواہش نہیں ہے۔
میری بغاوت صرف اتنی ہے کہ میں غلط کو غلط کہنے کی جرأت رکھنا چاہتی ہوں۔
میں چاہتی ہوں کہ میرے بچے ایسا معاشرہ دیکھیں جہاں سچ بولنے پر انسان اکیلا نہ رہ جائے۔ جہاں کسی کی کامیابی دوسرے کے لیے حسد کا سبب نہ بنے۔ جہاں اختلاف دشمنی نہ بنے اور جہاں انسان کو صرف انسان ہونے کی وجہ سے عزت ملے۔
میں باغی ہوں، کیونکہ میں تبدیلی کا خواب دیکھتی ہوں۔
اور شاید ہر بڑی تبدیلی کی ابتدا ایک چھوٹے سے سوال سے ہوتی ہے:
"کیا ہم واقعی ایسے ہی رہنا چاہتے ہیں؟”
اگر جواب نہیں ہے تو پھر شاید ہمارے اندر کا باغی ابھی زندہ ہے۔
