طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مردوں میں پائی جانے والی ایریکٹائل ڈس فنکشن (ED) یا مردانہ کمزوری محض جنسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ دل اور خون کی نالیوں سے جڑی سنگین بیماریوں کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق جب مریض اس مسئلے کے ساتھ کلینک آتے ہیں تو ان کی پہلی تشویش اکثر صحت نہیں بلکہ رشتے سے متعلق ہوتی ہے۔ بیشتر مرد یہ خوف ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا شریکِ حیات انہیں چھوڑ سکتا ہے، تاہم ماہرین اس موقع کو ایک بڑے طبی مسئلے کی نشاندہی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کو پہلے سے ہائی بلڈ پریشر یا بے قابو ذیابیطس ہو تو مردانہ کمزوری کی وجہ سمجھنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ لیکن اگر نوجوان یا بظاہر صحت مند افراد میں یہ مسئلہ ظاہر ہو تو ڈاکٹر اس کو دل اور خون کی نالیوں کی صحت سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔
طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جنسی کمزوری دل کی بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے ایک سے تین سال پہلے سامنے آ سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ ایک “وارننگ سائن” کے طور پر کام کر سکتا ہے۔دل کی زیادہ تر بیماریاں براہِ راست دل سے شروع نہیں ہوتیں بلکہ جسم کی چھوٹی خون کی نالیوں سے آغاز ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ شریانیں سخت ہو جاتی ہیں،کولیسٹرول جمع ہونے لگتا ہے،خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے، ہائی بلڈ پریشر، شوگر، تمباکو نوشی، نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ ان مسائل کو مزید بڑھاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایریکشن ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں دماغ، اعصاب، خون کی نالیاں اور پٹھے سب مل کر کام کرتے ہیں۔دماغ سے سگنل شروع ہوتا ہے،خون عضوِ تناسل کی طرف جاتا ہے،نالیاں پھیلتی ہیں اور خون اندر رکتا ہے،اگر اس عمل میں کسی بھی مرحلے پر خلل آئے تو ایریکشن متاثر ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر خون کی نالیاں تنگ یا سخت ہونا شروع ہو جائیں تو اس کا اثر سب سے پہلے جنسی کارکردگی پر پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مردانہ کمزوری کو بعض اوقات “ویسکولر بیماری” (خون کی نالیوں کی بیماری) کی ابتدائی علامت سمجھا جاتا ہے۔اگر یہ مسئلہ اچانک شروع ہو،مسلسل رہے،یا وقت کے ساتھ بڑھتا جائے،تو اسے سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کی دل کی حالت مستحکم ہو تو جنسی عمل عام طور پر محفوظ ہوتا ہے۔یہ عمل جسم پر اتنا ہی دباؤ ڈالتا ہے جتنا تیز چہل قدمی یا سیڑھیاں چڑھنے سے پڑتا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ سرگرمیاں بغیر سینے کے درد یا سانس پھولنے کے کر سکتا ہے تو جنسی عمل بھی عموماً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔اگرچہ مردانہ کمزوری کی ادویات فوری فائدہ دیتی ہیں، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ صرف علامت کو ٹھیک کرتی ہیں، اصل بیماری کو نہیں۔خاص طور پر دل کے مریضوں کی کچھ ادویات کے ساتھ یہ خطرناک ردعمل دے سکتی ہیں،اس لیے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہیے،ماہرین مردوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ اگر انہیں اپنی جنسی صحت میں تبدیلی محسوس ہو تو اسے نظرانداز نہ کریں بلکہ بلڈ پریشر چیک کروائیں،کولیسٹرول اور شوگر ٹیسٹ کروائیں،نیند اور ذہنی دباؤ پر توجہ دیں،تمباکو نوشی ترک کریں
ماہرین کے مطابق مردانہ کمزوری کو صرف ایک نجی یا وقتی مسئلہ سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ جسم کے اندر جاری کسی بڑی بیماری کا ابتدائی اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔اس لیے بروقت تشخیص اور علاج نہ صرف بہتر جنسی زندگی بلکہ ایک لمبی اور صحت مند زندگی کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔
