چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے انٹر پارلیمانی یونین کی صدر ڈاکٹر ٹولیا ایکسن سے اہم ملاقات کی، جس میں عالمی جمہوریت، پارلیمانی سفارت کاری، کثیرالجہتی تعاون اور باہمی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران پاکستان نے عالمی سطح پر جمہوری اقدار کے استحکام اور بین الپارلیمانی مکالمے کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پر انٹر پارلیمانی یونین کو عالمی جمہوریت، مکالمے اور پارلیمانی ہم آہنگی کا ایک مؤثر اور فعال پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس فورم کو عالمی مسائل کے حل کے لیے انتہائی اہم سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے انٹر پارلیمانی یونین کی اسمبلیوں اور مختلف کمیٹیوں میں فعال اور بامعنی شرکت جاری ہے اور مستقبل میں بھی یہ سلسلہ مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
سید یوسف رضا گیلانی نے امن، پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں موسمیاتی تبدیلی ایک سنگین عالمی چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے انٹر پارلیمانی یونین کے ساتھ قریبی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کو درپیش ماحولیاتی خطرات کے تناظر میں اجتماعی حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ملاقات میں خواتین کی سیاسی شمولیت اور صنفی مساوات کے فروغ میں انٹر پارلیمانی یونین کے کردار کو سراہا گیا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے اور پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے آئینی و قانونی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو خواتین کے معاشی استحکام اور سماجی تحفظ کا ایک مؤثر پروگرام قرار دیا، جس کے ذریعے لاکھوں خواتین کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
گفتگو کے دوران چیئرمین سینیٹ نے کشمیر اور فلسطین کے مسائل پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں تنازعات کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور متعلقہ فریقین کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لے اور انصاف پر مبنی حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ملاقات میں پاکستان اور انٹر پارلیمانی یونین کے درمیان ادارہ جاتی روابط اور تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پارلیمانی استعداد کار میں اضافے، قانون سازی کے معیار کو بہتر بنانے اور تجربات کے تبادلے کے لیے مشترکہ اقدامات کو وسعت دی جائے گی۔
ڈاکٹر ٹولیا ایکسن نے پاکستان کی پارلیمانی سرگرمیوں اور انٹر پارلیمانی یونین میں فعال شرکت کو سراہتے ہوئے جمہوریت، امن اور ترقی کے فروغ کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔یہ ملاقات عالمی سطح پر پاکستان کی پارلیمانی سفارت کاری کو مستحکم بنانے اور کثیرالجہتی فورمز پر مؤثر کردار ادا کرنے کی کوششوں کا تسلسل قرار دی جا رہی ہے۔
