اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)رمضان المبارک کے دوران مصنوعی مہنگائی اور گرانفروشی کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور گراں فروش عناصر آمنے سامنے آ گئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے عوامی ریلیف مشن کے تحت ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر ضلع بھر میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے سخت کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کے مطابق رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضلع بھر میں خصوصی چیکنگ مہم شروع کی گئی، جس کے دوران پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے مارکیٹوں، بازاروں اور دکانوں کا ہنگامی دورہ کیا۔ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 4679 انسپکشنز کی گئیں جن میں متعدد خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق مقررہ نرخوں سے زائد قیمتوں پر اشیائے خورونوش فروخت کرنے، سرکاری نرخ نامے آویزاں نہ کرنے اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے پر 8 مقدمات درج کروائے گئے۔ اس کے علاوہ 22 گرانفروش دکانداروں کو گرفتار کیا گیا جبکہ سنگین خلاف ورزیوں پر 14 دکانیں سیل کر دی گئیں۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کو مجموعی طور پر 11 لاکھ 72 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی مہنگائی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور گراں فروش عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے واضح ہدایت کی کہ تمام دکاندار اپنی دکانوں پر سرکاری نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں اور اشیائے ضروریہ مقررہ قیمتوں پر فروخت کریں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح رمضان المبارک کے دوران عوام کو سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب شہری حلقوں نے انتظامیہ کی کارروائیوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بڑے ہول سیلرز اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ مہنگائی کے اصل ذمہ دار عناصر کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول مہم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے فیلڈ میں مانیٹرنگ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے اور عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ گرانفروشی کی شکایات متعلقہ حکام کو فوری طور پر رپورٹ کریں تاکہ فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
