گوجرخان (قمرشہزاد) رمضان سے قبل مہنگائی نے شہریوں کی کمر توڑ دی ہے اور غریب کی چیخوں کو خاموش کر دیا ہے، مارکیٹوں میں پھل آسمان چھو رہے ہیں، سیب 500 روپے، کیلا درجہ دوم 350، امرود 350 اور مالٹا 300 سے 450 روپے تک! یہ نرخ عام متوسط اور محنت کش طبقے کی پہنچ سے باہر ہیں۔ رمضان کے آغاز میں محض دو دن باقی ہیں، لیکن قیمتیں پہلے ہی ساتویں آسمان پر ہیں۔ غریب پھل دیکھ کر ترسیں گے، جبکہ کچھ لوگ رمضان کو ذاتی فائدے اور حج،عمرہ کے لیے دولت جمع کرنے کا موسم بنا رہے ہیں۔ حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے ہیں، اور مہنگائی کے ماسٹر مائنڈز آج تک بے نقاب نہیں ہوئے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی میں مذہبی تہوار یا رمضان کے موقع پر قیمتیں گرتی ہیں، عوام کو ریلیف ملتا ہے۔ وہاں سہولت بازار اور سبز بازار عوام کے لیے لگائے جاتے ہیں تاکہ ہر طبقہ خریداری کر سکے۔ مگر پاکستان میں حالات بالکل برعکس ہیں قیمتیں چھلانگیں لگاتی ہیں، سہولت بازار غائب ہیں، اور غریب عوام کی جیبیں لوٹی جا رہی ہیں۔ یہ مہنگائی کوئی معمولی مسلہ نہیں، یہ عوام پر جابرانہ ڈاکہ ہے، ہر گلی، ہر بازار میں نرخ ایسے بڑھ رہے ہیں جیسے رمضان صرف کچھ لوگوں کے فائدے کے لیے ہو۔متوسط اور کم آمدنی والے شہری رمضان کی خوشیاں صرف خوابوں میں دیکھیں گے، جبکہ حکومتی ادارے خاموشی سے یہ لوٹ مار دیکھتے رہیں گے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے خاموشی توڑیں، قیمتوں پر قابو پائیں اور عوام کو رمضان میں فوری ریلیف فراہم کریں۔ ورنہ یہ مہنگائی کا طوفان ہر گھر میں احتجاج اور ناراضگی کی آگ بھڑکا دے گا، اور عوام اپنی چیخوں میں جواب مانگیں گے۔
گوجرخان میں رمضان سے پہلے مہنگائی کی طوفانی چھلانگ، پھل غریب کے خوابوں سے دور
