یونان کے ساحل کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک کشتی حادثے میں تارکین وطن کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی ہے، جس نے ایک بار پھر سمندری راستوں سے یورپ جانے کی خطرناک کوششوں کو اجاگر کر دیا ہے۔
یونانی کوسٹ گارڈ کے مطابق یہ حادثہ یونان کے قریب پیش آیا، جہاں ایک ربڑ کی کشتی میں سوار تارکین وطن کئی دنوں سے سمندر میں پھنسے ہوئے تھے۔ امدادی کارروائی کے دوران یورپی سرحدی ایجنسی کے جہاز نے کریٹ کے قریب 26 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔
بچ جانے والے افراد نے حکام کو بتایا کہ وہ تقریباً 6 روز تک سمندر میں انتہائی مشکل حالات میں محصور رہے، جہاں نہ مناسب خوراک تھی اور نہ ہی پانی کی فراہمی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سفر کے دوران کچھ افراد جان کی بازی ہار گئے اور ان کی لاشیں سمندر میں پھینک دی گئیں۔
حکام کے مطابق اس حادثے میں کم از کم 2 افراد ہلاک ہوئے، تاہم اصل تعداد زیادہ ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ کئی افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جس میں بہتر زندگی کی تلاش میں لوگ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر غیر قانونی راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت اقدامات اور محفوظ قانونی راستوں کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
یونان کے قریب کشتی حادثہ، 22 تارکین وطن ہلاک
