فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوجی طاقت کے ذریعے ’آزاد‘ کرانے کا خیال غیر حقیقت پسندانہ ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے ایران جنگ اور خطے کی صورتحال پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ حلقے فوجی آپریشن کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی بات کر رہے ہیں، تاہم یہ عملی طور پر ممکن نہیں۔
میکروں کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے کسی بھی فوجی اقدام میں نہ صرف بہت زیادہ وقت درکار ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں خطے میں مزید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کو ساحلی خطرات کا سامنا ہوگا اور پاسداران انقلاب جیسے گروہوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس علاقے میں بیلسٹک میزائل اور دیگر دفاعی وسائل موجود ہیں، جس کے باعث کسی بھی فوجی کارروائی کے نتائج پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔
فرانسیسی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے، جس سے صورتحال مزید الجھ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حساس معاملے پر سنجیدگی سے کام لینے کی ضرورت ہے اور بیانات میں تسلسل ہونا چاہیے تاکہ عالمی سطح پر واضح پیغام دیا جا سکے۔
میکروں نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلے کا حل فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی راستے سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
آبنائے ہرمز کو طاقت سے کھلوانا غیر حقیقی، میکروں
