Baaghi TV


انڈیا کیلئے ایک اور عالمی شرمندگی، مودی حکومت کی عالمی اے آئی سمٹ انتظامی ناکامی کی مثال

نئی دہلی میں منعقد ہونے والی “انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026” کا آغاز ہی شدید بدنظمی اور انتظامی مسائل کے باعث تنازع کا شکار ہوگیا۔ حکومت کی جانب سے اسے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی میں پیش رفت کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، تاہم پہلے ہی روز شرکا کو بدانتظامی، طویل انتظار اور ناقص سہولیات کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹس کے مطابق کانفرنس کے مقام پر سخت سیکیورٹی انتظامات کے باعث نمائش کنندگان اپنے بوتھس تک بروقت رسائی حاصل نہ کرسکے۔ کئی داخلی راستے گھنٹوں بند رہے جس کے نتیجے میں مقامی اور غیرملکی شرکا کو شدید مشکلات پیش آئیں۔ متعدد مندوبین کو تپتی دھوپ میں طویل انتظار کرنا پڑا جبکہ ٹریفک جام نے صورتحال مزید خراب کردی۔

وزیراعظم نریندر مودی کی آمد سے قبل سیکیورٹی اقدامات غیرمعمولی حد تک سخت کر دیے گئے، جس کے باعث کانفرنس کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ شرکا کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت پر گفتگو کے بجائے انتظامات زیادہ تر سرکاری تشہیر اور تصویری سرگرمیوں تک محدود دکھائی دیے۔

کانفرنس ہال کے اندر بھی حالات تسلی بخش نہ رہے۔ شرکا نے ناقص وینٹیلیشن، بجلی کی بندش اور پانی کی کمی کی شکایات کیں۔ فضائی آلودگی اور شدید حبس نے ماحول کو مزید مشکل بنا دیا، جس پر سوشل میڈیا پر بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔ کئی صارفین نے اسے عالمی معیار کی کانفرنس کے برعکس قرار دیا۔

اسٹارٹ اپ بانیوں اور ٹیکنالوجی ماہرین نے احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کے نام پر کاروباری ملاقاتیں اور نیٹ ورکنگ سیشن متاثر ہوئے، جس سے ایونٹ کے بنیادی مقاصد ہی متاثر ہوگئے۔

پانچ روزہ اس سمٹ میں بھارت سمیت 20 سے زائد ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت اور تقریباً 40 سے 45 سینئر وزرا کی شرکت متوقع ہے، تاہم افتتاحی دن کی بدنظمی نے عالمی سطح پر کانفرنس کی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔ شرکا کا کہنا ہے کہ اگر انتظامی مسائل فوری حل نہ کیے گئے تو آئندہ سیشنز بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

More posts