بھارت میں مودی حکومت ایک بار پھر نہتے شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال کر رہی ہے نئی دہلی میں اپنے مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج، گولیوں اور پیلٹ گن کے استعمال کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہوگیا ہے۔
بھارتی پارلیمنٹ میں قائدِ حزب اختلاف راہول گاندھی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر پولیس نے بلاجواز طاقت کا استعمال کیا۔ ان کے مطابق پیلٹ گن سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان اپنی ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو چکا ہے، جو نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے۔راہول گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہزاروں بھارتی نوجوانوں کو لاٹھی چارج اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ پرامن احتجاج کے دوران پولیس نے پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کو ملک کے مختلف حصوں میں بڑھتے عوامی احتجاج، بے روزگاری، معاشی دباؤ اور دیگر داخلی مسائل کا سامنا ہے، جس کے باعث حکومت پرامن مظاہروں سے نمٹنے کے لیے سخت گیر پالیسی اختیار کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق کشمیر اور منی پور کے بعد نئی دہلی میں بھی طاقت کے استعمال کے الزامات بھارت میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی جمہوری حق ہے اور مظاہرین کے خلاف طاقت کا غیر ضروری استعمال تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال سے متعلق تمام واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
