قابض بھارتی فورسزکے بڑھتے مظالم کے باعث مقبوضہ منی پور میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑ گئیں۔ منی پور میں اپریل اورمئی2026 میں بھارتی فورسزسے جھڑپوں کی وجہ سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔
منی پور میں7اپریل کو بڑے پیمانے پراحتجاجی مظاہرے شروع ہوئے جن پر بھارتی فورسزنے سیدھے فائر کھول دئیے۔ منی پور میں 8 اپریل کو عوامی غصہ احتجاج اور تشدد کی شکل اختیار کر گیا اور بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے۔پرتشدد احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کے بعد منی پور میں ایک بار پھر کرفیو نافذ کرکے انٹرنیٹ بھی بند کر دیا گیا۔ منی پور میں بھارتی قابض فورسز کی نہتے شہریوں پر فائرنگ سے 8 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ بڑھتی تحریکوں کو دبانے کیلئے قابض بھارتی فورسز نے منی پور کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیے۔ بھارتی فورسز کے آپریشن اور سول وار جیسی سنگین صورتحال میں منی پور کے 60 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
منی پور میں عوامی مظاہروں اور مزاہمت کے باعث معاشی سرگرمیاں معطل اور تعلیم و ٹرانسپورٹ شدید متاثر ہیں۔ ماہرین کے مطابق؛منی پور کے بے گناہ عوام مسلسل مودی کی حکومت کی جابرانہ پالیسیوں اور غاصب فوج کی سفاکیت کا نشانہ بن رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالیاں اور ہزاروں افراد کا گھروں سے بے دخل ہونا منی پور میں سنگین انسانی بحران کی واضح عکاسی ہے۔
