بدنام زمانہ امریکی شہری جیفری ایپسٹین اسکینڈل سے متعلق مزید ہوشربا دستاویزات جاری کردی گئیں۔
امریکی محکمہ انصاف نے35 لاکھ سے زائد صفحات عوام کے لیے جاری کردیے،نئی ریلیز میں 2 ہزار سے زائد ویڈیوز اور ایک لاکھ 80 ہزار تصاویر شامل ہیں، متاثرہ افراد کی شناخت چھپانے کیلئے کچھ حصے ایڈیٹ کیے گئے ہیں جبکہ اہم شخصیات اور سیاست دانوں کےنام نہیں چھپائےگئے، نائب اٹارنی جنرل ٹڈ بلانش کے مطابق ایپسٹین فائلز کا مکمل جائزہ مکمل کر لیا گیا ہے اور اب یہ مواد قانون کے مطابق جاری کیا جا رہا ہے۔ٹڈ بلانش نے پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا کہ وائٹ ہاؤس کا ان دستاویزات کے جائزے پر کوئی اختیار یا نگرانی نہیں تھی اور انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا “ہم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تحفظ نہیں دیا۔”انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کے کسی بھی رکن کو بغیر ترمیم شدہ (Unredacted) فائلیں دیکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ وہ محکمۂ انصاف سے باضابطہ طور پر رابطہ کریں۔
ایلون مسک اور ایپسٹین کے درمیان 2013 کی ای میلز منظرِ عام پر
جاری ہونے والی دستاویزات میں ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے 2013 میں جیفری ایپسٹین کو ای میل کر کے اس کے نجی کیریبین جزیرے پر جانے کے لیے وقت پوچھا تھا۔ای میل کے متن کے مطابق ایلون مسک نے لکھا “ہم تعطیلات میں برٹش ورجن آئی لینڈز اور سینٹ بارٹس کے قریب ہوں گے، کیا ملنے کا کوئی مناسب وقت ہے؟”بعد ازاں مسک نے ایک اور ای میل میں سوال کیا “ہم 2 تاریخ کو آپ کے جزیرے کی طرف کب روانہ ہوں؟”یہ انکشاف اس دعوے کے برعکس ہے جو ایلون مسک نے ماضی میں کیا تھا کہ انہوں نے ایپسٹین کی جانب سے جزیرے پر آنے کی دعوت مسترد کر دی تھی۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا مسک واقعی جزیرے پر گئے یا نہیں۔
متاثرین کی شناخت افشا ہونے پر شدید ردعمل
ایپسٹین کیس کی متعدد متاثرہ خواتین اور ان کے وکلا نے انکشاف کیا ہے کہ جاری کی گئی فائلوں میں کئی متاثرین کے نام بغیر حذف کیے (Unredacted) شامل ہیں، جسے متاثرین نے اپنی پرائیویسی اور تحفظ کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ایپسٹین متاثرین کی نمائندگی کرنے والے معروف وکیل بریڈلی ایڈورڈز نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا “محکمۂ انصاف نے متاثرین کے اعتماد، پرائیویسی اور بنیادی حقوق کو بری طرح پامال کیا ہے۔ یہ عمل شرمناک اور ناقابلِ قبول ہے۔”
ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس رو کھنہ، جنہوں نے وہ قانون تیار کیا تھا جس کے تحت ایپسٹین سے متعلق تمام ریکارڈز جاری کرنا لازم تھا، نے سوال اٹھایا کہ 60 لاکھ ممکنہ صفحات میں سے صرف ساڑھے 35 لاکھ صفحات ہی کیوں جاری کیے گئے؟ان کا کہنا تھا “فائلوں کو روکنا طاقتور افراد کو بچانے کے مترادف ہے اور اس سے عوام کا اداروں پر اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔”
جاری شدہ فائلوں میں ایف بی آئی کی جانب سے 2025 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف موصول ہونے والی غیر مصدقہ شکایات کی فہرست بھی شامل تھی، جسے بعد میں ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔ وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کو بے بنیاد، جھوٹا اور سنسنی خیز قرار دیا ہے۔اسی طرح سابق صدر بل کلنٹن سے متعلق سوالات پر ایپسٹین نے 2016 میں ہر سوال کے جواب میں پانچویں ترمیم (خاموش رہنے کا حق) کا استعمال کیا تھا۔
نئی فائلوں میں ایپسٹین کی قریبی ساتھی گھسلین میکسویل کی گرفتاری کی تصاویر، اس کے گھروں کی تصاویر، بینک اکاؤنٹس، ٹیکس ریکارڈ اور 10 لاکھ ڈالر کی وائر ٹرانزیکشن کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔محکمۂ انصاف کے مطابق جاری کی گئی فائلوں میں 2 ہزار ویڈیوز اور 1 لاکھ 80 ہزار تصاویر شامل ہیں، جن میں بڑی مقدار میں فحش مواد بھی موجود ہے۔ اسی وجہ سے DOJ کی ویب سائٹ پر فائلیں کھولنے سے پہلے 18 سال سے زائد عمر کی تصدیق لازمی قرار دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ایپسٹین پرکم عمرلڑکیوں کےجنسی استحصال اور عالمی اشرافیہ سے تعلقات رکھنےکے سنگین الزامات تھے،ایپسٹین2019 میں امریکی جیل میں مردہ پایا گیا تھاجس کی موت آج تک معمہ بنی ہوئی ہے۔
