ایم کیو ایم رہنما، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب خاموش نہیں رہیں گے، آئین اور قانون میں رہتے ہوئے عوام کو سڑکوں پر لارہے ہیں، یہ وہ ایم کیو ایم نہیں جو رات کو تقریر کرکے سوجائے گی،پارلیمنٹ کی سیاست کرلی، اب سڑکوں پر بات کریں گے،وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کل فیصل ٹاؤن کراچی میں جلسے کا اعلان کردیا۔
کراچی میں رہنماء ایم کیو ایم اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ چار صوبے اور وفاق کے سسٹم کو مزید برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ اس سے محرومیاں بڑھ رہی ہیں۔ نئے صوبے بنانا ناگزیر ہوگیا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کو حساس سمجھنے والوں سے کہوں کہ یہ ترمیم تو لاگو ہی نہیں ہوئی ہے۔ جس ترمیم کو لاگو ہی نہیں کیا گیا، اس کے خاتمے پر اتنا واویلا کیوں ہے۔ پیپلز پارٹی وفاق کو بلیک میل کرتی رہی ہے۔ ہم چند وزارتوں کی خاطر شہری سندھ کے حقوق کو مزید سلب ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ ان وزارتوں کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔ 18 سال میں سندھ کو 22 ہزار ارب روپے ملےجس میں سے کراچی کو صرف 680 ارب روپے دیئے گئے، حالیہ بجٹ میں سندھ کو وفاق سے 2 ہزار 263 ارب روپے ملے۔ان کا کہنا ہے کہ ملک کو کما کر دینے والے کراچی کو صرف 3 فیصد واپس ملا، 22 ہزار ارب روپے کا 90 فیصد کراچی نے کما کردیا، کراچی کے ساتھ مسلسل ناانصافی کی جارہی ہے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی کا اصل مسئلہ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے، یہ ایم کیو ایم کا مقدمہ ہے، سندھ حکومت کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے، کراچی کا مقدمہ ملک چلانے والوں کے سامنے رکھیں گے،فیلڈ مارشل 3 سال قبل کہہ چکے کہ پاکستان میں انتظامی تقسیم ناگزیر ہو چکی ہے،
ایم کیو ایم رہنماء کا کہنا ہے کہ لاہور چاند پر رہنے والا شہر ہے اسی ملک کا حصہ ہے نا، لاہور آج کراچی سے پچاس سال آگے چلا گیا ہے۔ ترقی پاکستان میں سب سے پہلے کہاں ہونی چاہیے تھی اور ہورہی تھی، تو اس کراچی میں ہورہی تھی لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے اس شہر کے ذریعے ملک کو جو ترقی ملنی تھی تو ہمیں اپنا رول ادا نہیں کرنے دے رہے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ 18 سال میں 2 ہزار ارب کا شارٹ فال ہے، اگر یہ پیسے کراچی کو ملتے تو اس شہر میں خوشحالی ہوتی۔ دوسرے شہروں میں ایئرایمبولینس کی باتیں کی جارہی ہیں، کراچی میں سائیکل ایمبولینس کی باتیں ہورہی ہیں، لاہور کراچی سے 50 سال آگے چلا گیا ہے، معاشی دلدل سے پاکستان کو آئی ایم ایف نہیں نکال سکتا، معاشی دلدل سے پاکستان کو کراچی نکال سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب خاموش نہیں رہیں گے، آئین اور قانون میں رہتے ہوئے عوام کو سڑکوں پر لارہے ہیں، یہ وہ ایم کیو ایم نہیں جو رات کو تقریر کرکے سوجائے گی۔مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ 18 ویں ترمیم اپنی اصل حالت میں آج تک لاگو نہیں ہوئی، ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہوچکا، ہم دودھ دینے والی گائے ہیں تو یہ ہمیں چارہ تک نہیں کھلا رہے۔
